شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل

Image caption شامی حکومت اور باغی دونوں اس تنازعے کے دوران ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے رہے ہیں

برطانیہ، فرانس اور ترکی سمیت چھتیس ممالک نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت پر سخت عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔

شام میں بدھ کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں شامی حزبِ اختلاف کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

برطانیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت دمشق کے نواح میں اس مقام تک رسائی دی جائے جہاں پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

’مبینہ کیمیائی حملے کی حقیقت جاننا ضروری‘

’کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں ہلاک‘

’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مزید واقعات‘

فرانس کے وزیرِ خارجہ لورنٹ فیبیس کا کہنا ہے کہ اگر حملہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا ’طاقت سے ردعمل‘ ہونا چاہیے۔

وزیرِ خارجہ نے ایک فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا کہ ’اگر ایسا ہوا ہے تو یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ کے معائنہ کار اس وقت وہاں موجود ہیں‘۔

انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ’طاقت‘ کا کیا مطلب ہے لیکن یہ بتایا کہ شام میں فوجی مداخلت کا امکان نہیں ہے‘۔

ابھی تک ایسا کوئی امکان نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو جائے وقوعہ تک رسائی دی جائے گی۔

برطانوی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق’برطانیہ سمیت چھتیس ممالک نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے تحریری طور مطالبہ کیا ہے، کیونکہ یہ معاملہ فوری توجہ چاہتا ہے اس لیے شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں سے ہی اس معاملے کی تحقیقات کریں‘۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ نے بھی کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔’ تمام سرخ لائنوں کو عبور کیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے‘۔

سلامتی کونسل کا اجلاس

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں

دوسری جانب مبینہ کیمیائی حملے کی خبر کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بدھ کو ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔

جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جین الیاسن نے کہا ہے یہ واقعہ شام کی صورتحال میں ایک اہم اور سنجیدہ تبدیلی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں واقعے کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے لیے ارجنٹائن کی سفیر ماریا کرسٹینا پرویسال نے بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’کونسل کے ارکان کو ان الزامات پر سخت تشویش ہے، یہ عمومی تاثر یہی ہے کہ اس معاملے کی حقیقت جانی جائے۔‘

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روس اور چین نے کونسل کے ایک سخت بیان کو روک دیا جس میں شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں سے اس واقعے کی تحقیقات کروانے کو کہا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسپکٹر اتوار کو شام پہنچے ہیں اور وہ وہاں اس سے پہلے ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اجازت دی جاتی ہے تو وہ تازہ حملے کی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہیں۔

بی بی سی کے مشرق وسطی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس حملے میں بڑے پیمانے پر لوگ مارے گئے ہیں تو صدر اوباما پر کارروائی کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔

اس سے قبل شامی حزبِ اختلاف نے کہا تھا کہ مہلک کیمیائی ہتھیاروں سے لیس راکٹوں سے دمشق کے مضافاتی علاقے غوتہ پر بدھ کی صبح باغیوں پر حملے کیے گئے۔

حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رضاکاروں کے نیٹ ورک نے بھی سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے تاہم ان دعووں کی تصدیق آزادانہ طور پر نہیں کی جا سکی۔

سرکاری خبر رساں ادارے ثناء کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی توجہ ہٹانا ہے۔

شامی حکومت اور باغی دونوں اس تنازعے کے دوران ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، تاہم ابھی تک ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

شام کے بارے عام خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس اب تک بڑی غیر اعلانیہ مقدار میں کیمیائی ہتھیار ہیں جن میں سارین گیس اور اعصاب کو شل کرنے والے ایجنٹ شامل ہیں۔

شام میں گزشتہ دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری اس بغاوت میں اقوام متحدہ کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں