شام:’مبینہ کیمیائی حملے کی حقیقت جاننا ضروری‘

شام
Image caption شامی حزبِ اختلاف کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں سے لیس راکٹوں سے دمشق کے مضافاتی علاقے غوتہ پر حملے کیے گئے

اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ شام میں موجود ادارے کے معائنہ کاروں کو دمشق کے نواح میں اس مقام تک رسائی دلوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پر شامی حزبِ اختلاف کے مطابق بدھ کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کی فوری اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ وہاں کیا ہوا۔

کیمیائی ہتھیار: اقوامِ متحدہ کو معائنے کی اجازت

شامی حکومت نے سارین گیس استعمال کی: لوراں فیبیوس

اس مسئلے پر بدھ کو نيویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جین الیاسن نے کہا ہے یہ واقعہ شام کی صورتحال میں ایک اہم اور سنجیدہ تبدیلی ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں واقعے کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے لیے ارجنٹائن کی سفیر ماریا کرسٹینا پرویسال نے بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’کونسل کے ارکان کو ان الزامات پر سخت تشویش ہے، یہ عمومی تاثر یہی ہے کہ اس معاملے کی حقیقت جانی جائے۔‘

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روس اور چین نے کونسل کے ایک سخت بیان کو روک دیا جس میں شام میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں سے اس واقعے کی تحقیقات کروانے کو کہا گیا تھا۔

دریں اثنا امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت 35 ممالک نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں سے ہی اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسپکٹر اتوار کو شام پہنچے ہیں اور وہ وہاں اس سے پہلے ہونے والے کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اجازت دی جاتی ہے تو وہ تازہ حملے کی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہیں۔

برطانوی وزیرِخارجہ ولیم ہیگ نے شامی حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر معائنہ کاروں کو اس علاقے تک رسائی دی جائے تاکہ معاملے کی تحقیقات کی جا سکے۔ عرب لیگ نے بھی کہا ہے کہ معائنہ کاروں کو ان مقامات پر جانے کی اجازت دی جائے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کیمیائی حملے کی خبروں سے انتہائی فکر مند ہے لیکن شام کے حامی مانے جانے والے روس کا کہنا ہے کہ ایسے ثبوت ہیں کہ یہ حملہ حزب اختلاف نے کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما پہلے ہی متنبہ کر چکے ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اس بحران کے بارے میں امریکی پالیسی کو پوری طرح تبدیل کر سکتا ہے۔

بی بی سی کے مشرق وسطی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس حملے میں بڑے پیمانے پر لوگ مارے گئے ہیں تو اوباما پر کارروائی کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔

اس سے قبل شامی حزبِ اختلاف نے کہا تھا کہ مہلک کیمیائی ہتھیاروں سے لیس راکٹوں سے دمشق کے مضافاتی علاقے غوتہ پر بدھ کی صبح باغیوں پر حملے کیے گئے۔

حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رضاکاروں کے نیٹ ورک نے بھی سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے تاہم ان دعوؤں کی تصدیق آزادانہ طور پر نہیں کی جا سکی۔

ادھر سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کی توجہ ہٹانا ہے۔

شامی حکومت اور باغی دونوں اس تنازعے کے دوران ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، تاہم ابھی تک ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

شام کے بارے عام خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس اب تک بڑی غیر اعلانیہ مقدار میں کیمیائی ہتھیار ہیں جن میں سارین گیس اور اعصاب کو شل کرنے والے ایجنٹ شامل ہیں۔

شام میں گزشتہ دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری اس بغاوت میں اقوام متحدہ کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں