یو این ٹیم دمشق میں، اوباما کی شام پر مشاورت

  • 24 اگست 2013

اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ اہلکار دمشق میں

Image caption انجیلا کین کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گی مون نے دمشق بھجوایا ہے تاکہ وہ کیمیائی حملے کی مبینہ جگہوں کے معائنے کو ممکن بنا سکیں

اقوامِ متحدہ کے تخفیف اسلحہ کی سربراہ اینجلا کین دمشق پہنچ گئی ہیں جہاں وہ شامی حکومت پر زور دیں گی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کے جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دیں۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما اپنے قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقات کر رہے ہیں اور شام کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔

انجیلا کین کی آمد ایسے موقعے پر ہوئی ہے جب فرانس نے بھی برطانیہ کے بعد دمشق کے مضافات میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے۔

’مبینہ کیمیائی حملے کی حقیقت جاننا ضروری‘

’ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں ہلاک‘

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اس مبینہ حملے کی ’بلا تاخیر‘ تحقیقات ہونی چاہئیں اور انہوں نے اسی سلسلے میں انجیلا کین کو دمشق روانہ کیا ہے تاکہ وہ اس حملے کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے معائنے کاروں کو اجازت دلوا سکیں۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ حکومت اور حزب اختلاف میں سے کوئی بھی اس معاملے میں سچائی تک پہنچنے کے موقعے کو رد کرے گا‘۔

بان کی مون کا کہنا تھا ’کسی بھی فریق کی جانب سے اور کسی بھی حالات میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انسانیت کے خلاف اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا ہوگا‘۔

Image caption س حملے میں مبینہ طور پر سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں

شام کے سرکاری میڈیا نے اس سے قبل الزام عائد کیا تھا کہ باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں کیمیائی ہتھیار ملے ہیں۔

شامی سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ سرکاری فوجیوں نے جب جُبر کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔

یاد رہے کہ جُبر غوطہ کے ضلعے میں ایک قصبہ ہے جس پر بدھ کے دن مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل روس نے الزام عائد کیا کہ بدھ کے حملے کے پیچھے باغیوں کا ہاتھ ہے جبکہ دمشق میں شامی حکومت نہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کو ’غیر منطقی اور من گھڑت‘ قرار دیا۔

تاہم روس نے شام سے اپیل کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو دارالحکومت دمشق کے قریب مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کی اجازت دے۔

روس کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لووروف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ باغی افواج کو شام میں پہلے سے موجود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہیے۔

ادھر شام کی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے کہ وہ ان معائنہ کاروں کو مبینہ کیمیائی حملوں کے مقام تک جانے کی اجازت دے گی۔

امریکی بحریہ شام کی جانب روانہ

Image caption امریکی وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کا چوتھا جنگی جہاز اس خطے کی جانب روانہ ہوا ہے

اس سے قبل مریکی وزیر دفاع چک ہیگل چکے ہیں کہ امریکہ اپنی فوج کو شام کے قریب لا رہا ہے اور یہ سرگرمی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ شامی تنازعے میں مداخلت کے حوالے سے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

چیک ہیگل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر اوباما نے شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار کے استعمال کی بات سامنے آنے کے بعد سے پینٹاگون سے ہر قسم کے ملٹری متبادل راستے فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ یہ وزارتِ دفاع کی ذمہ داری کہ وہ ہر قسم کے حالات کے لیے صدر کو متبادل راستے بتائے۔

انھوں نے کہا ’اس کے لیے ہمیں اپنی فوج اور ساز و سامان کو ایسی پوزیشن میں لانا ہے تاکہ صدر جب کوئی فیصلہ کریں ہم اس پر عمل درآمد کر سکیں‘۔

امریکی وزارتِ دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کا چوتھا جنگی جہاز اس خطے کی جانب روانہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو صدر اوباما نے کہا تھا کہ کیمیائی حملہ شدید تشویش کا باعث اور امریکی توجہ کا طالب ہے لیکن انھوں نے اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک پر حملے پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام

شام میں حکومت اور باغی فورسز ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔

  • خان الاسل، 19 مارچ 2013 - شام کے سرکاری میڈیا نے باغیوں پر کیمیائی مواد سے لیس راکٹوں کے حملے میں اکتیس افراد کی ہلاکتوں کا الزام لگایا۔ باغیوں کا کہنا تھا کہ یہ حملہ فوج نے کیا ہے۔
  • اوطیبہ، 19 مارچ 2013 - حزب اختلاف کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ باغی فوجیوں کے خلاف ایک انتقامی کارروائی میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
  • ادرہ، 24 مارچ 2013 - مقامی گروہوں کے ایک نیٹورک ایل سی سی کا کہنا تھا کہ ایک حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
  • شیخ مقسود، حلب، 13 اپریل 2013- ایک حملے میں تین افراد ہلاک۔ انٹرنیٹ پر جاری کی جانے والی ویڈیو میں حملے کا شکار ہونے والے افراد میں نرو گیس سے پیدا ہونے والی علامات دیکھی گئیں۔
  • سراکب، 29 اپریل 2013 – عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ علاقے میں ایک ہیلی کاپٹر سے زہریلی گیس کے کنستر پھینکے گئے۔ آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک بعد میں ہلاک ہوگیا۔
  • غوطہ، 21 اگست 2013 – مبینہ طور پر اب تک کا سب سے سنگین واقعہ جس میں دمشق کے قریب علاقے میں سینکڑوں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

’دس لاکھ شامی بچے نقل مکانی پر مجبور‘

Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام سے بھاگنے والے تین چوتھائی بچوں کی عمریں گیارہ سال سے کم ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کے باعث وہاں سے نقل مکانی پر مجبور بچوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

ادارے کے مطابق شام میں اب تک بیس لاکھ سے زائد بچے بےگھر ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام سے نقل مکانی کرنے والے تین چوتھائی بچوں کی عمریں گیارہ سال سے کم ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین اینتھونیو گوتیخ کا کہنا ہے کہ شام کے نوجوان اپنے گھروں، خاندان کے افراد اور مستقبل کھو رہے ہیں۔

’شام کیمیائی حملے کی تحقیقات کی اجازت دے‘

شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل

شام:’مبینہ کیمیائی حملے کی حقیقت جاننا ضروری‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام سے بھاگنے والے بچے لبنان، اردن، ترکی، عراق اور مصر پہنچ رہے ہیں اور ان کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور یونیسف کا کہنا ہے کہ وہ ان بچوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

جنیوا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اموگن کا کہنا ہے کہ امدادی ایجنسیاں شام میں ایک مکمل گمشدہ نسل کے حوالے سے متنبہ کر رہی ہیں جو مستقبل میں امن اور استحکام کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھونیو گوتیخ کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شرمندگی کو بانٹنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بحران گزشتہ بیس سالوں میں سب سے بڑا بحران ہے اور صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 میں شروع ہونے والی شورش میں اب تک ایک اعشاریہ سات ملین افراد نے خود کو مہاجر کے طور پر رجسٹر کروایا ہے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام سے دمشق کے قریب مبینہ کیمیائی حملے کی فوری تحقیقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ بان کی مون تخفیفِ اسلحہ کے سربراہ اینجیلا کین کو اس واقعے کی تحقیق کے لیے دمشق بھیج رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے شام سے کہا ہے کہ وہ ادارے کے شام میں پہلے سے موجود معائنہ کاروں کو اس واقعے کی تحقیقات کی اجازت دے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ سیکرٹری جنرل یہ سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کی ’بلاتاخیر تحقیقات ہونی چاہیے‘۔

اس سے قبل فبیوس نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا ’اگر کیمیائی ہتھیاروں کے الزام کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا لازماً جواب دینا چاہیے، ایسا جواب جس میں طاقت کا استعمال شامل ہو سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں