’دس لاکھ شامی نقل مکانی پر مجبور‘

Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام سے بھاگنے والے تین چوتھائی بچوں کی عمریں گیارہ سال سے کم ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں جاری لڑائی کے باعث وہاں سے بھاگنے پر مجبور بچوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

ادارے کے مطابق شام میں اب تک بیس لاکھ سے زائد بچے بےگھر ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام سے بھاگنے والے تین چوتھائی بچوں کی عمریں گیارہ سال سے کم ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین اینٹونیو کا کہنا ہے کہ شام کے نوجوان اپنے گھروں، خاندان کے افراد اور مستقبل کھو رہے ہیں۔

’شام کیمیائی حملے کی تحقیقات کی اجازت دے‘

شام میں ’کیمیائی‘ حملے پر سخت عالمی ردعمل

شام:’مبینہ کیمیائی حملے کی حقیقت جاننا ضروری‘

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام سے بھاگنے والے بچے لبنان، اردن، ترکی، عراق اور مصر پہنچ رہے ہیں اور ان کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور یونیسف کا کہنا ہے کہ وہ ان بچوں کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

جنیوا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار اموگن کا کہنا ہے کہ امدادی ایجنسیاں شام میں ایک مکمل گمشدہ نسل کے حوالے سے متنبہ کر رہی ہیں جو مستقبل میں امن اور استحکام کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھونی لیک کا کہنا ہے کہ ہمیں اس شرمندگی کو بانٹنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بحران گزشتہ بیس سالوں میں سب سے بڑا بحران ہے اور صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 میں شروع ہونے والی شورش میں اب تک ایک اعشاریہ سات ملین افراد نے خود کو مہاجر کے طور پر رجسٹر کروایا ہے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شام سے دمشق کے قریب مبینہ کیمیائی حملے کی فوری تحقیقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ بان کی مون تخفیفِ اسلحہ کے سربراہ اینجیلا کین کو اس واقعے کی تحقیق کے لیے دمشق بھیج رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے شام سے کہا ہے کہ وہ ادارے کے شام میں پہلے سے موجود معائنہ کاروں کو اس واقعے کی تحقیقات کی اجازت دے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ سیکرٹری جنرل یہ سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کی ’بلاتاخیر تحقیقات ہونی چاہیے‘۔

اس سے قبل فبیوس نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم کو بتایا ’اگر کیمیائی ہتھیاروں کے الزام کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا لازماً جواب دینا چاہیے، ایسا جواب جس میں طاقت کا استعمال شامل ہو سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں