لبنان: دو مساجد میں دھماکے، بیالیس ہلاک

  • 23 اگست 2013

لبنان کے شہر طرابلس میں ریڈ کراس کے مطابق مساجد میں ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم بیالیس ہلاک اور چار سو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنان میں ریڈ کراس کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں جیسے ہی نمازِ جمعہ ختم ہوئی تو پہلا دھماکہ سُنی مسلک کی مسجد التقویٰ میں ہوا۔ اس کے پانچ منٹ بعد دوسرا دھماکہ مسجد السلام مسجد میں ہوا۔

لبنان جو کسی اور کی جنگ لڑ رہا ہے

بیروت: حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں دھماکہ

لبنان کے ہسمایہ ملک شام میں جاری جنگ کے اثرات لبنان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور یہاں مقیم شیعہ علوی اور سُنی مسلک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق لبنان کے سُنی مسلک کے سب سے نمایاں مذہبی رہنما شیخ سلیم رافعی مسجد التقویٰ میں نماز کے لیے آتے ہیں۔

لبنان میں بی بی سی عربی کے مطابق شیخ سلیم رافعی ملک میں شعیہ تنظیم حزب اللہ کے مخالف تصور کیے جاتے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ شیخ رافعی دھماکے کے وقت مسجد میں موجود تھے کہ نہیں۔

یاد رہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے مضبوط گرھ کے سامنے بھی دھماکہ ہبوا تھا۔

ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں دھماکے کے بعد گاڑیوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور لوگ زخمی افراد کو اٹھا کر گلی میں بھاگ رہے تھے۔

لبنان کے ہمسایہ ملک شام میں مارچ دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی بغاوت کے بعد سے ساحلی شہر طرابلس میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد خود ایک علوی ہیں۔ علوی لبنان میں ایک قبائلی مسلک ہے جو خود کو شعیہ مسلک کے قریب پاتا ہے۔

رواں برس فروری میں طرابلس میں شام کے صدر بشر الاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپ میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

لبنان میں سنہ 1990-1975 کی خانہ جنگی کے بعد سے علوی اقلیتی اپنے سنی پڑوسیوں کے ساتھ کئی بار لڑے ہیں۔

اسی بارے میں