برما میں مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں نذر آتش

Image caption برما میں رواں سال مارچ میں مسلم مخالف فسادات میں دو سو کے قریب افراد مارے گئے تھے ان میں زیادہ مسلمان تھے

برما میں فرقہ وارانہ فسادات کی نئی لہر میں بلوائیوں نے مسلمانوں کے متعدد مکانات اور دکانوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

برما کے شہر کنبو میں اس وقت یہ واقعات پیش آئے ہیں جب پولیس نے ایک بدھ خاتون سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار ایک مسلمان کو بلوائیوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

برما فسادات، چھ مسلمانوں کو قید کی سزا

فسادات کے دوران پولیس’خاموش تماشائی‘

مسلمانوں کو زیادہ سکیورٹی ملنی چاہیے:سوچی

حکومت نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔

بینکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کے مطابق تشدد کا نیا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برما میں کس قدر مسلم مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اور حکومت اس مسئلے سے نمٹنے میں کتنی غیر سنجیدہ ہے۔

چند دن پہلے ہی برما کے علاقے میئکتیلا میں اقوام متحدہ کے اہلکار ٹامس اوجیا کے قافلے پر ہجوم نے اس وقت دھاوا بول دیا جب وہ علاقے میں فرقہ واریت پر مبنی حملوں کی تحقیقات کرنے جا رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے اہلکار نے الزام عائد کیا تھا کہ برما کی حکومت اس وقت ان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی جب دو سو کے قریب مشتعل افراد نے ان پر حملہ کیا اور ان کی گاڑی کا گھیراؤ کیا۔

مارچ میں اسی طرح کے فرقہ وارانہ تشدد میں 43 افراد مارے گئے تھے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ یہ فسادات میئکتیلا شہر میں ایک مسلمان سنار کی دکان میں ہونے والی ایک بحث سے شروع ہوئے تھے جو بعد میں دوسرے شہروں تک پھیل گئے تھے۔

اس وقت بی بی سی کو برما سےملنے والی ویڈیو فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ برما کی پولیس خاموش تماشائی بن کر بدھ بلوائیوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر حملے اور ان کے قتل کو دیکھ رہی ہے۔اس ویڈیو میں ایک مسلمان سُنار کی دکان پر بدھ بلوائی حملہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسی طرح گزشتہ سال رخائن میں ہونے والے نسلی فسادات میں 200 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

رخائن میں ہونے والے فسادات بدھ مت کے ماننے والے اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان تھے جنہیں برمی شہری کے طور پر تسلیم نہیں کيا جاتا ہے۔

فسادات کی وجہ سے دونوں فرقے ایک دوسرے سے علیحدہ رہتے ہیں اور بہت سے روہنگیا مسلمان عارضی خیموں اور کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل پر حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق روہنگیا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوموں میں سے ایک ہیں۔

اسی بارے میں