اسلام اور جمہوریت

Image caption سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد ترکی اور فرانس کے حکام ملاقات کر رہے ہیں

سوال یہ ہے کہ کیا کسی ملک کی تعریف وہاں پر رائج زبان، اس کے علاقے ، وہاں کی حکمران جماعت یا مذہب کی بنیاد پر کی جائے۔

مشرقِ وسطیٰ کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلی جنگِ عظیم کو دیکھنا لازمی ہے۔اُس وقت کی آسٹریائی ہنگریائی سلطنت کی تباہی کے بعد وہاں کئی ممالک بن گئے۔

یہ ریاستیں جس میں آسٹریا، ہنگری، رومانیہ اور چیکوسلواکیہ شامل ہیں زبردستی وجود میں نہیں آئیں۔ ان کی سرحدیں عرصے سے ان ریاستوں کے درمیان زبان، مذہب، ثقافت اور نسل کی بنیاد پر موجود تقسیم کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم یہ ریاستیں دو دہائیوں میں ہی ناکام ہو گئیں جس کی وجہ نازیئزم اور کمیونزم کی کامیابی تھی۔

ریاست اور جمہوریت

آج ہم مرکزی یورپ کی ریاستوں کو اہمیت نہیں دیتے لیکن وہ ایک مستحکم سیاسی قوتیں ہیں جہاں ان کے شہریوں کی منتخب حکومتیں ہیں۔

جب آسٹریائی ہنگریائی سلطنت تباہ ہوئی تو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ بھی جو مشرقِ سے شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی، ختم ہوئی۔

فاتح اتحادیوں نے سلطنتِ عثمانیہ کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کیا۔ لیکن ان ریاستوں میں بہت کم ایسی تھیں جہاں جمہوریت عارضی طور پر پروان چڑھی۔ ان میں بہت سی ریاستوں پر مخصوص قبیلوں، فرقوں، خاندانوں یا فوج کی حکومت رہی جس کی باہر سے حمایت ہوتی رہی، جس طرح کہ شام میں۔ان ریاستوں میں حکمرانوں کو چیلنج کرنے والے گروپوں کو پرتشدد انداز میں دبایا جاتا رہا۔

Image caption عراق میں فرقہ واریت کے خلاف دعائیں

اکثر لوگ مشرقِ وسطیٰ میں جمہورت کی نسبتاً غیر مجودگی کو یہ جواز دے کر بیان کرتے ہیں کہ اس خطے میں نئی ریاستیں قائم کرنے کا یہاں موجود لوگوں کی پہلے والی وفاداریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

بعض معاملات میں ایسا ہوا۔ ترکی کے فوج کے جنرل کمال اتا ترک سلطنتِ عثمانیہ کے ترکی زبان بولنے والے علاقوں کے دفاع کرنے اور اسے یورپ کی طرز پر ایک جدید ریاست بنانے میں کامیاب رہے۔

باقی جگہوں پر لوگوں نے اپنی شناخت نہ مذہب سے کی نہ اپنی قومیت سے۔ حسن البنا نے 1928 میں اخوان المسلمین کی بنیاد ڈالی تھی۔ انھوں نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ان کی اولین ترجیح دنیا کے تمام مسلمانوں کو اکٹھا کر کے قومیت سے بالا تر ہو کر اسلامی ریاست قائم کرنا ہے، جہاں خلافت کا نظام ہو۔

جو لوگ اپنی شناخت مذہب کے حوالے سے کرتے ہیں تو انھیں ایک ریاست کی سرحدوں میں رکھنا ایسی بدانتظامی پیدا کرنا ہے جیسا کہ ہم نے عراق میں دیکھا۔ عراق میں سنی اور شیعہ اپنی اپنی برتری حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ کشیدگی ہم اب شام میں دیکھ رہے ہیں جہاں بشارالاسد کے خاندان کے اوپر آنے کے بعد مسلمانوں کے اقلیتی علوی مسلک نے معاشرے میں اپنا کنٹرول قائم رکھا ہے۔

اس کے برعکس یورپ میں لوگ اپنی شناخت قومیت کے حوالے سے کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ کسی بھی جنگ کی صورت میں قوم کا دفاع کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اور اگر خدا کوئی اور حکم دیتا ہے تو یہ خدا کے لیے اپنا ذہن تبدیل کرنے کا وقت ہوتا ہے۔

لیکن اسلام میں اس قسم کے کسی خیال کی گنجائش نہیں کیونکہ اسلام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ خدا نے ایک ابدی قانون بنایا ہے اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ اس کی پاسداری کریں۔

سلطنتِ عثمانیہ

Image caption طیب اردوگان اتاترک اور اپنے تصویر کے ساتھ

سلطنتِ عثمانیہ کا سرکاری مذہب سنی اسلام تھا اور کسی بھی دوسرے اسلامی مسلک کو سرکاری طور تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ عیسائیت کے مختلف مسلکوں، آتش پرستوں اور یہودیوں کو برداشت کیا جاتا تھا۔ لیکن کئی صدیوں تک ملک کو سرکاری طور پر اسلامی شریعت اور کئی مقامی قوانین کے تحت چلایا جاتا تھا۔

اتاترک نے سلطنت کے نظام کو ختم کر دیا اور یورپ کے ماڈل پر نیا معاشرتی نظام بنایا۔ انھوں نے شریعت سے ہٹ کے ایک نیا آئین بنایا، اسلامی طرزِ لباس اور ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر پابندی عائد کی۔ انھوں نے ایک سیکولر نظامِ تعلیم رائج کیا اور ترکوں کے لیے ملک کے ساتھ وفاداری کو پہلی ترجیح قرار دیا۔ اگر وفاداری کا سوال ہو تو پہلے وہ ترک اور بعد میں مسلمان ہونگے۔ انھوں نے شراب کی فروخت کی اجازت دی۔

اتاترک نے ترکی کو نسبتاً ایک جدید ریاست کے طور پر ترتیب دیا۔انھوں نے 1933 میں مرد و خواتین کو ووٹ دینے کاحق دیا۔ اور اب ملک میں ایسا قانونی نظام رائج ہے جو انسانوں کی قانون ساز اسمبلی کے زور پر چل رہا ہے نہ کہ آسمانی وہیوں سے۔

ایک طرف ترکی کی تقریباً ساری آبادی مسلمان ہے جو قرآن میں بیان کی گئی تقویٰ داری اور خوبصورتِ طرز زندگی کے بارے میں پرانی یادوں کو سوچتے ہیں۔ اس لیے وہاں سیکولر ریاست اور مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں کے درمیان تناؤ رہتا ہے۔

اتاترک اس تناؤ سے با خبر تھے اور انھوں نے ملک کے سیکولر آئین کی پاسداری فوج کے ذمہ لگائی تھی۔ انھوں نے فوج کے لیے ایسا نظامِ تعلیم رائج کیا جو ان کو مولویوں کے دقیانوسی خیالات سے لاشعوری طور پر متنفر کر دیتے تھے۔ فوج نے ملک کی ترقی اور جدیدیت کی ذمہ دار لی تھی جو لوگوں کے دلوں میں تقویٰ داری کی جگہ حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرتی تھی۔

اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اتاترک کے نقطۂ نظر کی پاسداری کے لیے فوج نے ملک کی سیاسی معاملات میں کئی دفعہ مداخلت کی۔ جب سابق سویت یونین نے ترکی کی جمہوریت کو خراب کرنے کی کوشش کی اور قوم پرست اور دائیں بازو کے گروہ گلیوں میں لڑنے لگے تو فوج نے 1980 میں اقتدار پر قبضہ کیا۔

ترکی کی فوج نے حالیہ سالوں میں بھی حکمرانوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا جب وزیرِاعظم طیب اردوگان نے پرانے اسلامی اقدار کی طرف واپس گامزن ہونے کی کوشش کی۔

طیب اردوگان کی جسٹس پارٹی برائے نام سیکولر ہے لیکن وہ خود ایک ایماندار اور عوامی آدمی ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قرآن ہی میں انسانی زندگی گزرانے کے لیے موزوں رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ وہ ایسے آئین سے خوش نہیں ہیں جو حب الوطنی کو تقویٰ داری پر ترجیح دیتا ہے اور جو مسجد کی بجائے فوج کو سماجی نظام کا پاسدار بناتا ہے۔

اردوگان نے فوج کے کئی بڑے افسروں پر بغاوت کرنے کے جرم میں مقدمے بھی چلائے ہیں اور ان میں بعض افسر اب تاحیات جیل کاٹ رہے ہیں۔ ان مقدمات کو انصاف کے ساتھ مذاق قرار دیا گیا ہے لیکن جو یہ بات کرتے ہیں ان پر بھی بغاوت کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اردوگان کی مخالفت کرنے والوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔

ترکی کے کیس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت، آزادی اور انسانی حقوق ایک نہیں تین چیزیں ہیں۔ طیب اردوگان کے حامیوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ انھوں نے تین دفع اکثریت کے ساتھ انتخابات جیتے ہیں۔ لیکن بنیادی آزادی جسے ہم اہمیت نہیں دیتے ان کے اقتدار میں آنے سے بڑھی نہیں ہے بلکہ خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اس لحاظ مصر ایک دوسری بہت ہی مناسب مثال ہے۔ اخوان المسلمین ہمیشہ سے ایک عوامی تحریک بننے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ لیکن اس کے ایک بہت ہی بااثر رہنما سید قطب نے سیکولر ریاست کے خیال ہی کو رد کرتے ہوئے اسے توہینِ مذہب قرار دیا تھا۔ سید قطب کو جمال ناصر نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آنے کے بعد پھانسی دی۔

اسی وقت سے مصر کی فوج اور اخوان المسملین ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ اخوان المسلمین نے عوامی انتخابات جیت لیے جسے انھوں نے مصر کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے اختیار ملنے کے مترادف قرار دیا۔ محمد مرسی کے حامی جو پوسٹرز ہلاتے تھے اس پر جمہوریت یا انسانی حقوق کے نعرے نہیں درج ہوتے لیکن اس پر لکھا ہوتا کہ ’ہم شریعت کے ساتھ ہیں‘۔ جس کا فوج نے جواب دیا کہ نہیں، ہم میں سے بعض شریعت کے ساتھ ہیں۔

جدید ریاست اور اسلامی شریعت

تو پھر ایک جدید ریاست اسلامی قانون کے تحت کیوں نہیں چلائی جا سکتی؟ یہ متنازع معاملہ ہے اور اس پر مختلف لوگوں کے مختلف خیالات ہیں۔

میرا نظریہ کچھ یوں ہے: پیغمبرِ اسلام کے دور میں مدینہ میں قائم ہونے والے اسلامی قانون کے ابتدائی مدارس میں قاضی معاشرے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق قانون تبدیل کر سکتے تھے۔ اس عمل کو اجتہاد کہا جاتا تھا، جس کا لفظی مطلب کوشش کرنا ہے۔

لیکن بظاہر یہ عمل آٹھویں صدی میں ختم ہو گیا۔ اس دور میں یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ تمام اہم مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔

اس لیے آج کے دور میں شریعت متعارف کروانے کا خطرہ یہ ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا نظام نافذ کر دیا جائے جو کب کا معدوم ہو چکا ہے اور جو لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے انسانی معاشرے کے ساتھ قدم ملا کر چلنے سے قاصر ہے۔ یہ بات مختصر الفاظ میں یوں کہی جا سکتی ہے کہ سیکیولر قانون اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہے لیں مذہبی قانون جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔

مزید یہ کہ چوں کہ شریعت نافذ نہیں کی گئی، اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔ کیا زنا کے مجرموں کو واقعی سنگسار کر دیا جائے؟ کیا سود کے ساتھ رقم کی سرمایہ کاری ہر صورت میں حرام ہے؟ کچھ کہتے ہیں ہاں، کچھ کہتے ہیں نہیں۔

جب خدا قانون بناتا ہے تو قانون بھی اتنا ہی پراسرار بن جاتا ہے جتنا خود خدا ہے۔ جب ہم قانون بناتے ہیں تو ہم انھیں اپنے مقاصد کے لیے بناتے ہیں، اور ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ان کا مقصد کیا ہے۔

اب واحد سوال یہ باقی بچتا ہے کہ ’ہم کون ہیں؟‘ ہم اپنی کیا تعریف کریں جو جمہوری انتخابات اور حقیقی حزبِ مخالف اور انسانی حقوق کے ساتھ ہم آہنگ ہو؟

میرے خیال سے یہ وہ سب سے اہم سوال ہے جس کا مغرب کو سامنا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کہ ہم بھی اس کے غلط جوابات دے رہے ہیں۔