عراق میں تشدد کی لہر، چھیالیس افراد ہلاک

Image caption عراق میں رواں سال فرقہ واریت پر مبنی تشدد کے واقعات میں چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

عراق میں حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم چھیالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد اور وسطی شہر باکوبا میں ہونے والے متعدد دھماکوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

عراقی جیلوں پر القاعدہ کے حملے میں 500 قیدی فرار

’عراق میں حالات وہ نہیں جن کی توقع تھی‘

اطلاعات کے مطابق باکوبا شہر میں چار دھماکے ہوئے ہیں جن میں دو شعیہ مسلمانوں کی شادی کی ایک تقریب میں ہوئے۔

دارالحکومت بغداد میں ایک کافی شاپ کے اندر ہونے والے دھماکے سمیت کئی دھماکوں ہوئے اور ان میں کم از نو افراد مارے گئے۔

شمالی شہر بلد میں حکام کے مطابق ایک کار بم دھماکہ عین اس وقت ہوا جب وہاں سے ایک مقامی جج گزر رہے تھے۔

دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ زخمیوں میں جج بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ موصل میں ایک جعلی چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی روکی گئی اور پھر اس پر فائرنگ کے نتیجے میں پانچ فوجی ہلاک ہو گئے۔اس کے علاوہ ترکی کی سرحد سے متصل علاقے شاباک سمیت شمالی علاقے میں ہونے والے دھماکوں میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔

عراق میں ماہِ رمضان کے دوران پرتشدد واقعات میں چھ سو ستر افراد ہلاک ہو گئے تھے جو رواں سال کسی ایک ماہ کے دوران ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراق میں شعیہ اور سنی مسلک کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اور رواں سال اس نوعیت کے واقعات میں کم از کم چار ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

سنی آبادی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت میں سنی مسلمانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں سنہ 2003 کے امریکی حملے کے بعد سے رواں سال سب سے زیادہ خونی رہا ہے۔

اسی بارے میں