معاشرہ گمراہ ہو رہا ہے: ربی لارڈ سیکس

Image caption ربی لارڈ سیکس 22 سال بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں

برطانیہ کے چیف ربی لارڈ سیکس نے کہا ہے کہ معاشرہ راہِ راست سے ہٹ رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ جوں جوں سماج زیادہ آزاد خیال ہوتا جا رہا ہے، معاشرے میں اعتماد کی بھی کمی ہوتی جا رہی ہے۔

بی بی سی فور کے سنڈے پروگرم میں انٹرویو دیتے ہوئے لارڈ جوناتھن سیکس نے کہا گزشتہ 50 برسوں کے دوران انفرادیت پرستی کے تصور میں اضافہ اعتماد اور یقین میں کمی کا باعث ہوا ہے۔

انھوں نے کہا ’جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ادارے ٹوٹیں گے۔‘

65 سالہ لارڈ سیکس اگلے ماہ 22 سال تک چیف ربی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد اپنے عہدے سے سبک دوش ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ آئرلینڈ کے سابق چیف ربی، ربی افریم مروس یہ عہدہ سنبھالیں گے۔

لارڈ سیکس نے سنہ 2008 کے مالی بحران اور شادی میں گراوٹ کی شرح پر بھی خاطر خواہ روشنی ڈالی۔

انھوں نے کہا ’میرے خیال میں ہم درحقیقت اپنی بنیاد کھو رہے ہیں۔ ہم نے برطانیہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر غور نہیں کیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اگر لوگ زیادہ سے زیادہ اپنے ہی مفاد کے لیے کام کریں گے تو انہیں صنعت، معیشت، مالی اداروں میں اعتماد نہیں رہے گا اور ہمیں شادیاں زیادہ دنوں تک قائم نظر نہیں آئیں گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب آپ یقین کی دولت سے محروم ہونے لگتے ہیں اور جیسے ہمارا سماج اور معاشرہ ضرورت سے زیادہ سیکولر ہو جاتا ہے، تو شادی جیسے ادارے ٹوٹنے لگے گیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ کسی ایک یا دوسری حکومت کی غلطی نہیں ہے بلکہ یہ اپنے آپ میں حکومت کی غلطی ہی نہیں ہے بلکہ یہ غلطی ہے ہمارے معاشرے کی ہے۔‘

لارڈ سیکس سنہ 1991 سے برطانیہ اور دولت مشترکہ کے چیف ربی ہیں اور اس عہدہ کو روایتی طور پر برطانوی یہودیوں کے سربراہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ شادیاں ٹوٹنے سے برطانیہ کے بچوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے ’بچے اس کے شکار ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس کے حل کے لیے اپنا کوئی موقف نہیں رکھنا چاہتے لیکن انھوں نے کہا ’میرے خیال میں ایک ایسا ماحول جہاں بچے اپنے والدین کے ساتھ پلے بڑھیں وہ سماج پر مرتسم ہونے والا سب سے اہم تاثر ہوگا۔‘

انھوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ مذہب کی بنیاد پر قائم معاشرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مل کر کام کریں تاکہ لوگوں کو دیرپا رشتوں کی اہمیت کے تصور کی تعلیم دی جا سکے۔

انھوں نے کہا ’اگر آپ کسی بڑے سماج کے خواہاں ہیں تو یہ چرچ، مسجد، کنیسائی (یہودی عبادت گاہ) اور مندر والے معاشرے سب سے مضبوط ہیں کیونکہ کہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا خیال کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مذہب میں سماج کی بنیاد یقین اور اعتماد ہے لیکن بہت سے لوگ اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں یہ چیزیں ایسی ہیں جن میں ہم بغیر کسی ثبوت کے یقین رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مذہب اور کم از کم یہودی مذہب کا مطلب ہے ایک دوسرے پر بھروسہ اور یہ یقین خدا پر یقین کی بنیاد پر ہے۔‘

انھوں نے اپنے ایک مضمون میں وزراء کو شادی کی حوصلہ افزائی اور گھر پر رہنے والے ماؤں کی امداد کرنے کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے حکومت سے ٹیکس کے نظام میں شادی کو شامل کرنے کی بات بھی کہی ہے۔

اسی بارے میں