سوئٹزرلینڈ میں ایک اور آنندی

Image caption زیورخ کی طوائفوں کے لیے شہر سے باہر خصوصی بازارِ حسن قائم کیا گیا ہے

غلام عباس کے مشہور افسانے آنندی کی کہانی سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں دہرائی جا رہی ہے۔ غلام عباس کے شہرۂ آفاق افسانے میں ایک شہر کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کے عین مرکز میں موجود بازارِ حسن کی وجہ سے شرفا ناک بھوں چڑھاتے ہیں، چناں چہ بلدیہ شہر سے دور ایک نئی بستی بسا کر ان طوائفوں کو وہاں منتقل کر دیتی ہے۔

رفتہ رفتہ نئی بستی میں شائقین کی آمد و رفت شروع ہو جاتی ہے اور ’لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘ کے مصداق کچھ ہی برسوں کے بعد وہاں ایک نیا شہر بس ہو جاتا ہے، جس کے عین وسط میں بازارِ حسن آباد ہے۔ افسانے کے اختتام پر بلدیہ کے ایک اور اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اب کی بار طوائفوں کو شہر سے بارہ کوس دور بسایا جائے۔

لگتا ہے کہ زیورخ کی بلدیہ اردو ادب سے نابلد ہے، کیوں کہ اس نے عین یہی کہانی زیورخ میں دہرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہوا یوں کہ شہر کے وسط میں آباد بازارِ حسن کی وجہ سے مسائل بڑھتے گئے، اور ’شرفا‘ کو طرح طرح کی شکایتیں لاحق ہو گئیں، جیسے جسم فروشی سے منسلک منشیات کا دھندا، تندخو گاہک، تشدد، وغیرہ وغیرہ۔

چنانچہ زیورخ کے ووٹروں نے گذشتہ برس 24 لاکھ سوئس فرانک (26 لاکھ ڈالر) کی منظوری دی تاکہ طوائفوں کو شہر کے مصروف مرکز سے ہٹا کر شہر کے باہر منتقل کر دیا جائے۔ یہی نہیں بلکہ شہر کی بلدیہ ہر سال ان کھوکھوں کی دیکھ بھال پر سات لاکھ فرانک خرچ کرے گی۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شہر سے باہر ’ڈرائیو اِن سیکس باکس‘ تعمیر کیے جائیں گے، جن کے اندر گاڑیوں والے گاہک جا سکیں گے۔

کئی درجن طوائفیں لکڑی کے ان خوش نما کھوکھوں سے باہر ایک گول پارک میں سڑک کے کنارے کھڑی رہیں گی جہاں سے گاہک ان کا انتخاب کر سکیں گے۔

سرکاری خرچ سے تعمیر کردہ یہ جگہ ساری رات کھلی رہے گی اور اس میں باتھ روم، لاکر، ایک چھوٹا سا کیفے اور کپڑے دھونے کی مشینیں نصب ہوں گی۔

طوائفوں کو یہاں کام کرنے کے لیے پرمٹ کی ضرورت ہو گی اور ایک چھوٹا سا ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ اگر انھیں گاہکوں سے کسی خطرے کا سامنا ہوا تو وہ ایک بٹن دبا کر سکیورٹی طلب کر سکتی ہیں۔

زیورخ کے ایک وکیل ویلنٹین لینڈمان نے بی بی سی کو بتایا: ’اب کوئی ان خواتین کو تاریک گوشوں یا اجاڑ پارکنگ میں نہیں گھسیٹ سکے گا اور وہ اپنے گاہکوں کے رحم و کرم پر نہیں ہوں گی۔‘

تاہم ایک استانی برجیٹا ہانسل مان اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ انھوں نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ باکس ’ایک ایسی چیز کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہیں جو کنٹرول ہو ہی نہیں سکتی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں گشت بڑھا دے گی تاکہ طوائفوں کو مزید سکیورٹی فراہم کی جا سکے۔

سوئٹزرلینڈ میں جسم فروشی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ وہاں طوائفوں کی بڑی تعداد وسطی یورپ کے ملکوں سے آتی ہے۔

اب دیکھنا ہے کہ بیس سال بعد زیورخ سے باہر ایک اور زیورخ وجود میں آتا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا ہوا تو اس دور کی بلدیہ اس ضمن میں کیا فیصلہ صادر کرے گی۔

اسی بارے میں