کیا شام میں مداخلت قانونی ہو گی؟

لفظ عالمی قانون سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا مطلب ہے یہ عالمی قوانین اور احکامات کا مجموعہ ہے جس پر تمام ممالک نے اتفاق کیا ہے اور وہ سب اسے سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔

معاملہ در حقیقت ایسا نہیں ہے اور عمل در آمد کے معاملے میں یہ بہت مشکل ہے قریباً ناممکن ہے کہ آپ کسی ایک معاملے پر عالمی قوانین کی مدد سے ایک فیصلہ لے سکیں جیسا کہ فوجی مداخلت کا معاملہ ہے۔

اس حوالے سے کوئی ایک عالمی عدالت نہیں ہے جو مداخلت کی اجازت دے۔

اگرچہ ایک ایسا قانونی ڈھانچہ بنایا جا رہا ہے جس کی مدد سے انسانی بنیادوں پر فوجی مداخلت کی جا سکے۔

اسے ’تحفظ کی زمہ داری‘ کے نام سے یا R2P کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ 1990 کے کوسوو اور روانڈا کے تباہ کن قتل عام کے نتیجے میں بنا تھا۔

اسے عالمی طور پر تو نہیں مگر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے تین بنیادی نکات ہیں:

  • ریاستوں کو چاہیے کہ وہ اپنی عوام کو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے بچائے اور اس کے ساتھ ہی عالمی برادری کی زمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے جرائم کی روک تھام میں ریاستوں کی مدد کرے
  • جہاں اس بات کے مضبوط شواہد ہیں کہ ایسے جرائم وقوع پذیر ہوئے ہیں اور ایک ریاست انہیں روک نہیں رہی ہے یا روکنا نہیں چاہ رہی ہے
  • عالمی برادری ان جرائم کے خاتمے کے تمام پر امن ذرائع استعمال کرے اور اگر ایسا کیا جا چکا ہے اور اس میں ناکامی ہوتی ہے تو عالمی برادری فوجی طاقت استعمال کر سکتی ہے

اس طرح کے اقدام کے لیے زیادہ مضبوط قانونی جواز کے لیے فوجی مداخلت کی اجازت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لینی لازمی ہے۔ چونکہ سلامتی کونسل ایک منفرد مقام ہے جو عالمی قوانین میں طاقت کے استعمال کے حوالے سے ایک بنیادی ثالث کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

شام کے معاملے میں شاید یہ ممکن نہ ہو کیونکہ سلامتی کونسل کے ایک سے زیادہ رکن ملک کی جانب سے مداخلت کی مخالفت کی وجہ سے اتفاقِ رائے کی شدید کمی ہے۔

’رضامندوں کا اتحاد‘

Image caption ’تحفظ کی زمہ داری‘ کے نام سے یا R2P کا قانون 1990 کے کوسوو اور روانڈا کے تباہ کن قتل عام کے نتیجے میں بنا تھا

اس طرح کی صورتحال میں R2P عالمی برادری کو فوجی طاقت کے استعمال کا ایک قانونی ڈھانچہ خطے کے ممالک کے ایک نام نہاد ’رضامندوں کے اتحاد‘ کے زریعےفراہم کرتا ہے ۔

R2P میں کئی طرح کے تحفظ کے نکات بھی ہیں:

  • ایک جاری رہنے والی سفاکانہ کارروائی کے بارے میں مضبوط شواہد اور ثبوت
  • پرامن ذرائع جیسا کہ سفارت کاری اور پابندیوں کا استعمال جس کے باجود ظلم جاری رہے
  • کسی قسم کی طاقت کا استعمال کو معین ہونا چاہیے جو کہ ظلم اور سفاکی کو روکہ اور عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرے

دوسرے لفظوں میں یہ محدود طاقت کا استعمال ہے تاہم اگر تمام معیارات کو جانچا جاتا ہے تو پھر محدود اور معین فوجی طاقت کا استعمال عالمی قوانین اور R2P کے تحت قانونی ہو گا۔

حتمی طور پر ان حالات میں فوجی مداخلت کا فیصلہ حکومتوں کے پاس ہو گا نہ کہ وکلا کے پاس۔

یہ ان حکومتوں کے لیے ہے کہ وہ فوجی مداخلت کے لیے اپنا موقف پیش کریں اور ظاہر کریں کہ تمام قانونی ضروریات پوری کی گئی ہیں۔

شام کے معاملے میں یہ ممالک یہ دلیل دیں گے ملک میں سفاکی اور ظلم جاری ہے اور اسے روکنے کے تمام پرامن ذرائع استعمال کیے جا چکے ہیں اور معین فوجی اقدام جس سے دو نتائج حاصل ہو سکیں گے، ظلم اور سفاکی کو روکنا اور عام شہریوں کا تحفظ۔

اسی بارے میں