میجر ندال کو موت کی سزا سنا دی گئی

Image caption میجر ندال نے اس مقدمے کے دوران اپنا دفاع کرنے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کی

امریکی فوجی ماہر نفسیات ڈاکٹر ندال حسن کو 2009 میں ریاست ٹیکسس میں 13 فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے۔

میجر ندال حسن کو سزائے موت دینے کا فیصلہ ایک فوجی جیوری نے سنایا۔

اس سے قبل ڈاکٹر ندال کو قتلِ عمد کے 13 اور اقدامِ قتل کی کوشش کے 32 واقعات میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

میجر ندال نے جرم تسلیم کرنے کی کوشش کی مگر فوجی قانون موت کی سزا کے کیسوں میں اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

ورجینیا میں پیدا ہونے والے 42 سالہ میجر ندال نے طالبان کی حمایت میں غیر مسلح امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیا تھا جو افغانستان میں تعنیات ہونے والے تھے۔

عدالت کی جانب سے متعین کیے گئے وکیل نے جج کو اس سے قبل بتایا تھا کہ میجر ندال موت کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ وہ شہید ہو سکیں۔

استغاثہ کے کرنل مائک ملیگن نے جیوری کے اراکین کو شاذ و نادر دی جانے والی سزائے موت کا فیصلہ سنانے کے لیے کہا۔

کرنل ملیگن نے میجر حسن کے بارے میں کہا کہ ’وہ کبھی بھی شہید نہیں تھے اور نہ ہوں گے وہ ایک مجرم ہیں اور ایک بے رحم قاتل ہیں‘۔

میجر حسن جنہوں نے مقدمے میں اپنا دفاع خود کیا نے کہا کہ ’میرا کوئی اختتامی بیان نہیں ہے‘۔

تیرہ رکنی جیوری کو متفقہ طور پر ندال حسن کو سزائے موت سنانی تھی ورنہ ان کے لیے عمر قید کی سزا ہوتی۔

امریکی فوج نے 1961 کے بعد سے اب تک اپنے کسی فوجی کو سزائے موت نہیں دی۔ اس وقت ریاست کینسس کی فورٹ لیون ورتھ جیل میں پانچ قیدی موت کی کوٹھڑیوں میں بند ہیں لیکن ان سب کی اپیلیں مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں۔

ندال حسن نے فورٹ ہوڈ کے طبی مرکز میں ان فوجیوں پر فائرنگ کی تھی جن کو بیرون ملک تعیناتی سے قبل طبی جانچ پڑتال کے عمل سے گزارا جاتا ہے۔

عدالت نے سنا کہ ندال حسن نے اس حملے کی تیاری کی تھی جس کے دوران انہوں نے 146 گولیاں چلائیں۔

اس حملے کا اختتام تب ہوا جب ندال حسن کو ایک سویلین افسر نے گولی ماری جس کے نتیجے میں اب وہ کمر سے نیچے مفلوج ہیں اور ویل چیئر استعمال کرتے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے جیوری نے سات گھنٹوں کی بحث کے بعد متفقہ فیصلے میں انھیں مجرم قرار دیا تھا۔

فوج کی جانب سے سزائے موت پر عمل درآمد کروانے میں آخری رکاوٹ صدر کی جانب سے منظوری ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں شروع ہونے والے کورٹ مارشل میں میجر ندال حسن نے تسلیم کیا کہ اس واقعے میں ملوث حملہ آور وہی تھے۔ انھوں نے خود اپنا مقدمہ لڑا اور استغاثہ کی جانب سے پیش ہونے والے 90 میں سے صرف تین گواہوں پر جرح کی۔ انھوں نے اپنی جانب سے کوئی گواہ پیش نہیں کیا اور نہ ہی مقدمے کے اختتام پر اپنے دلائل پیش کیے۔

عدالت کی طرف سے دیے گئے قانونی مشیر مقدمے میں کم ہی شریک رہے۔

میجر ندال کا کہنا ہے کہ ان کے حملے کا مقصد افغانستان میں طالبان کو بچانا تھا۔

جب فوجی جج کرنل ٹیرا اوسبورن نے ارکانِ جیوری کے مشورے سے قبل کہا کہ میجر ندال نے یہ حملہ غصے سے مغلوب ہو کر کیا تھا تو انھوں نے اس کی تردید کی:

’یہ اچانک جذبات میں آ کر نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے لیے مناسب ترغیب موجود تھی کیوں کہ ان فوجیوں کو ایک غیر قانونی جنگ میں شریک ہونے کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔‘

میجر ندال فوج میں نفسیات کے ڈاکٹر تھے۔ انھوں نے پانچ نومبر 2009 کو ایک چھاؤنی کے ہسپتال میں یہ حملہ کیا جہاں سے فوجیوں کو بیرونِ ملک تعیناتی سے قبل معائنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں