’شام کے خلاف محدود کارروائی پر غور کر رہے ہیں‘

  • 31 اگست 2013

’شام کےمحدود کارروائی پر غور کر رہے ہیں‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں وہ شام کے خلاف ’محدود کارروائی‘ پر غور کر رہے ہیں۔

دریں اثناء شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ایک ٹیم سنیچر کو دمشق سے لبنان پہنچ گئی ہے۔انھوں نے شام میں چار دن تک معائنہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان گي مون نے سفارت کاروں کو بتایا کہ ان کی فائنل رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ جائے گے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونالی کا کہنا ہے کہ شام سے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کے نکلنے سے امریکہ کی سربراہی میں شام پر حملے کی ایک عملی اور سیاسی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے صدر اوباما نے جمعے کو بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شام کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم انھوں نے شام پر زمینی حملے کو خارج از امکان قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ ان کے حلیف اور دنیا کے ممالک کے لیے خطرہ ہے۔

صدر براک اوباما نے کہا کہ ’ہم ایسی دنیا کو قبول نہیں کر سکتے جہاں عورتوں، بچوں اور معصوم شہریوں کو خوفناک حد تک کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کو قائم رکھے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن شام کے خلاف ’محدود کارروائی‘ پر غور کر رہا ہے اور شام پر زمینی حملہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ کوئی لمبے عرصے کی مہم ہوگی۔

صدر براک اوباما کے بیان سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ دمشق کے مضافات میں اکیس اگست کو شامی حکومت کی جانب سے کیے گئے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں 1429 افراد ہلاک ہو گئے۔

جان کیری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 426 بچے بھی شامل تھے اور انہوں نے اس حملے کو ’ناقابلِ تصور دہشت ‘ قراد دیا۔

انہوں نے فوجی کارروائی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ اس حوالے سے ان کی حکومت کانگریس کے سربراہوں سے بات کرے گی۔

شامی حکومت اس کیمیائی حملے سے انکار کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی باغیوں نے کیا تھا۔

جان کیری نے کہا تھا کہ ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ 1429 افراد کیمیائی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے اور اس حملے کے لیے شامی کی حکومتی افواج نے تین دن قبل سے تیاری کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ حکومتی انتظام کے علاقوں سے راکٹ برسائے گئے اور وہ باغیوں کے زیر انتظام علاقے میں گرے‘۔

’ہمیں ان تمام باتوں کا علم ہے اور امریکی انٹیلیجنس حکام ان معلومات کے بارے میں بہت زیادہ پراعتماد ہیں‘۔

شام نے امریکی الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے جاری معلومات کی اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:-

  • اس حملے میں 426 بچوں سمیت کل 1429 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔
  • حملے سے تین دن قبل اس علاقے میں شامی فوج کے کیمیائی اسلحے کے اہلکار کام کر رہے تھے۔
  • سیٹلائٹ سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے کیمیائی حملے کی رپورٹ سامنے آنے سے 90 منٹ قبل حکومت کے قبضے والے علاقے سے راکٹ داغے گئے تھے۔
  • حملے کے متعلق تقریباً 100 ویڈیوز میں یہ علامات دیکھنے میں آئی ہیں جو اعصاب کو متاثر کرنے والے عوامل کے زیرِ اثر آنے پر دیکھی جاتی ہیں۔
  • دمشق کے ایک سینیئر اہلکار کی بات چیت کو انٹرسپٹ کرنے سے اس بات کی توثیق ہو گئی کہ ’ کیمیائی اسلحے کا استعمال ہوا ہے‘ اور وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ثبوت ملنے کے تعلق سے تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔

ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کے تجزیے کی طبی ماہرین، گواہوں، صحافیوں، ویڈیوز اور ہزاروں میڈیا رپورٹز سے توثیق ہوتی ہے۔

اس کے جواب میں شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا نے کہا کہ ’ جان کیری پرانی کہانیوں پر مبنی مواد کا استعمال کر رہے ہیں جنہیں ایک ہفتے قبل دہشت گردوں نے شائع کیا تھا۔‘

اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اراکین میں سے ایک روس کی مخالفت کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام کے خلاف کسی فوجی کاروائی کی منظوری ممکن نظر نہیں آتی۔

اس سے قبل چین کے ہمراہ روس نے شام کے خلاف دو بار مجوزہ قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر اوباما اور فرانسیسی صدر اولاند کے درمیان شام کے مسئلے پر جمعہ کو گفتگو ہوئی۔

واضح رہے کہ فرانس اور امریکہ کو برطانیہ کی طرح فوجی کارروائی کے لیے پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکہ کے ایک دوسرے اتحادی ترکی نے سابق یوگوسلاویہ کے خلاف 1999 میں ہونے والے نیٹو بم حملے کی طرز پر شام کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا ہے۔

یاد رہے کہ نیٹو نے اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کے بغیر کوسوو کے عوام کی حفاظت کے لیے 70 دنوں تک فضائی حملے جاری رکھے تھے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے یہ بھی کہا کہ فوجی مداخلت بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لیے کی جانی چاہیے۔

بدھ سے قبل حملہ ہو سکتا ہے: اولاند

Image caption واشنگٹن دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی کا تابع نہیں ہو سکتا: جان کیری

فرانسیسی صدر نے کہا ہے کہ برطانوی پارلیمان کی طرف سے شام پر حملے کے خلاف ووٹ دینے سے فرانس کا شام کے خلاف سخت کارروائی کا عزم نہیں بدلا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ تمام ممکنہ راستوں پر غور کیا جا رہا ہے اور چند دنوں کے اندر اندر حملے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بیان سے قبل امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے کہا تھا کہ امریکہ ممکنہ حملے کے لیے دوسرے ممالک کے تعاون کی کوششیں جاری رکھے گا۔

فرانسیسی اخبار لا موند کے ساتھ انٹرویو میں اولاند نے کہا کہ برطانوی دارالعوام کے ووٹ سے ان کے شام کے خلاف حملے کے عزم پر کوئی فرق نہیں پڑا: ’ہر ملک کارروائی میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہ بات برطانیہ پر بھی اسی طرح لاگو ہوتی ہے جیسے فرانس پر۔‘

اولاند نے کہا کہ شام کے خلاف کارروائی کے تمام راستے کھلے ہیں، لیکن کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک اسے حق بجانب کرنے والے شرائط پوری نہ ہوں۔

تاہم انھوں نے اگلے بدھ سے قبل فوجی حملے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ اس دن فرانسیسی پارلیمان اس معاملے پر بحث کرے گی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر برطانوی وزیرِاعظم کی طرح پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کے پابند نہیں ہیں۔

دریں اثنا جرمنی کی حکومت نے کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

برطانوی حکومت کو دارالعوام میں شام کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ میں شکست کے بعد امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کے بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ ’اپنے بہترین مفاد‘ میں قدم اٹھائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’جو ممالک کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ تاہم شامی حکومت اس الزام کی تردید

کرتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ’صدر براک اوباما کا فیصلہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہو گا۔‘

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کانگریس کے اراکین کو شامی کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

جان کیری نے اس موقع پر کہا کہ واشنگٹن دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی کا تابع نہیں ہو سکتا۔

ڈیموکریٹ جماعت سے تعلق رکھنے والی ممبر ایلیئٹ اینجل نے بریفنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ نے کہا ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور بشار الاسد حکومت نے سمجھتے بوجھتے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے‘۔

ایلیئٹ نے بتایا کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ’شام کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کی مانیٹرنگ سے ملے ہیں‘۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ ایک قریبی اتحادی ہے اور امریکہ برطانیہ سے شام کے بحران سے متعلق مشاورت کرتا رہے گا۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کا مختصر اجلاس ہوا۔ تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں پانچوں ممالک میں تفریق واضح رہی۔

ایک سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں روس اور چین ایک طرف جبکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس دوسری جانب رہے۔

ڈیوڈ کیمرون کو ووٹ میں شکست

برطانوی دارالعوام کے اراکین نے حکومت کی جانب سے شامی حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے دارالعوام میں پیش کی گئی قرارداد کو تیرہ ووٹوں سے شکست دی گئی۔ قرارداد کے حق میں 272 جبکہ مخالفت میں 285 ووٹ آئے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے تیس جبکہ ان کی حلیف جماعت لبرل ڈیموکریٹ کے نو اراکین نے اس قراداد کے خلاف ووٹ دیا۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دارالعوام نہیں چاہتا کہ کارروائی کی جائے اور ’حکومت اس کے مطابق کام کرے گی‘۔

اس ووٹ کے بعد اب امریکہ کی سربراہی میں شام پر ممکنہ فوجی کارروائی میں برطانیہ کا کردار تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

دارالعوام میں شکست وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔

صرف وزیراعظم ہی نہیں بلکہ لیبر پارٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد جس میں ’پرزور‘ ثبوتوں کی بات کی گئی تھی کو بھی دارالعوام کے اراکین نے 114 ووٹوں سے مسترد کر دیا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اراکینِ دارالعوام نے حکومت کی اُس قراداد کو بھی مسترد کر دیا جس میں شام میں اس صورت میں فوجی کارروائی کی بات کی گئی تھی اگر اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار اس کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے حزبِ اختلاف کے ایڈ ملی بینڈ کے پوچھنے پر تصدیق کی کہ برطانوی حکومت دارالعوام کی رائے کا احترام کرے گی۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے مدیر نِک رابسنس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ان کی خارجہ اور دفاع کی پالیسی کا اختیار جاتا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اب عالمی سطح پر ان کا کردار بہت گھٹ جائے گا۔

’میں توقع کرتا ہوں کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا جواب پر غور کرتے رہیں گے۔ ان ممالک کو مایوسی ہو گی کہ برطانیہ ایسی کسی کارروائی میں شامل نہیں ہو گا مگر میں نہیں سمجھتا کہ برطانیہ کی غیر موجودگی کارروائی کی راہ میں روک بنے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو دارالعوام کے ووٹ سے ’مایوسی‘ ہوئی جو کہ ان کے خیال میں برطانیہ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔

’اس سے یقیناً ان خاص تعلقات پر دباؤ پڑے گا۔ امریکی ہمارے پارلیمانی نظام سے واقف ہیں اور شاید وہ اس قدر مخالفت سے حیران ہوئے ہوں گے‘۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ہمونڈ نے ایڈ ملی بینڈ کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کیمرون کی حمایت نہ کر کے شامی صدر بشار الاسد کی ’اعانت‘ کی ہے۔

برطانوی اخبارت نے اپنی اشاعت پر وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی دارالعوام میں شکست کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔

اخبار انڈیپنڈنٹ نے اپنی شہ سرخی کے لیے چارلس ڈکنز کے مشہور ناول ’اے ٹیل آف ٹو سٹیز‘ یعنی دو شہروں کی کہانی کو مستعار لے کر لکھا ’اے ٹیل آف ٹو وارز یعنی دو جنگوں کی کہانی‘ جس سے اخبار کی مراد ہے شام پر کارروائی اور دوسری جنگ جو کیمرون دارلعوام میں لڑ رہے ہیں۔

اخبار ڈیلی میل کی شہ سرخی ہے ’کیمرون کو منکسر بنانا‘ اور اخبار میٹرو نے وزیر اعظم کے الفاظ کہ ’میں سمجھ گیا ہوں‘ کو اپنے صفحۂ اول کی زینت بنایا ہے۔

عالمی رائے عامہ منقسم

اگر ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیلی گیس ماسک ڈھونڈ رہے ہیں جب کہ دوسری طرف تیل کی قمیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شام پر حملے کی صورت میں متاثر ہونے والے بعض ملکوں میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے وہاں گلی کوچوں میں رائے عامہ کی عکاسی کچھ یوں کی ہے۔

دہلی سے نیتن سری واستو

شامی تنازع شروع ہونے کے بعد بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ شام سے نکل جائیں۔ اس کے وجہ سے اب وہاں بہت کم بھارتی شہری رہ گئے ہیں۔

شام پر حملے کی بات سن کر اکثر بھارتی شہری بھویں تان دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے عراق میں تشدد کے ساتھ الجھا دیتے ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ’کیا امریکہ ایک اور جنگ کرنے جا رہا ہے؟‘ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید امریکہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ایک اور جنگ شروع کر سکے۔

لیکن ایک بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ ’اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی تو تیل مہنگا ہوگا۔‘

بھارت تیل کی درآمد پر بہت انحصار کرتا ہے اور حالیہ مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں میں پے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پیرس سے ہیو شوفیلڈ

شام پر حملے کے بارے میں عوامی رائے محتاط ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر پر عوام میں غم و غصہ پایا گیا اور اس پر کارروائی کرنے کا ردِ عمل سامنے آیا۔

لیکن اب عوامی جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمولی اکثریت اقوامِ متحدہ سے منظوری کے بعد شام پر حملے کے حق میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کی زیرِ سرپرستی شام پر حملے کے امکانات بہت کم ہیں۔

برلن سے سٹیون ایوانز

اس ہفتے کے اوائل میں کیے گئے سروے کے مطابق جرمن عوام شام پر حملے کے سخت مخالف ہیں۔

سروے کرنے والے مشہور ادارے فورسا کے مطابق سروے کیے گئے افراد میں 69 فیصد نے شام پر حملے کی مخالفت کی جب کہ 23 فیصد افراد نے اس کی حمایت کی۔

حملے کی حمایت کرنے والے اقلیتی گروپ بھی شام پر حملے میں جرمنی کی شمولیت نہیں چاہتے۔ باالفاظِ دیگر وہ شام پر ایسے حملے کے حق میں ہیں جس میں جرمنی حصہ نہ لے رہا ہو۔

جرمنی میں وفاقی پارلیمانی انتخابات ایک مہینےمیں ہونے والے ہیں جس کی وجہ سے حکومت احتیاط سے کام لے رہی ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ گیویڈو ویسٹرویلی نے کہا: ’اگر شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوتی ہے تو عالمی برادری کو پھر شام کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘

بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے شام میں جرمنی کی طرف سے مداخلت کے سخت خلاف ہیں لیکن دوسرے لوگ اس پر منقسم ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جرمنی کے ماضی وجہ سے اس کے لیے شام میں قتل وغارت کو روکنے کے لیے مداخلت ضروری ہے۔

ماسکو سے ڈینئل سٹینفرڈ

ماسکو کے باہر میٹرو سٹیشن پر غیر سائنسی انداز میں کیے گئے سروے سے پتہ چلا کہ بہت ہی کم لوگ شام پر حملے کے حق میں ہیں۔

اس بات پر لوگوں میں اتفاق نہیں تھا کہ شام میں کیمیائی حملے کس نے کیے۔

ماسکو کے بعض باشندوں کا خیال ہے کہ اس کے ذمہ دار صدر بشارالاسد ہیں جبکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حملے امریکہ یا باغیوں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہے۔

لیکن کسی نے بھی نہیں کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردِعمل کے طور پر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو شام پر فضائی یا میزائل حملے کرنے چاہییں۔ ان کا اصرار ہے کہ امریکہ کو اس تنازعے سے دور رہنا چاہیے۔

روس شام کا قریبی دوست ہے لیکن شام روس کے عام لوگوں کے ایجنڈے پر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

طرابلس، لبنان سے کوئینٹن سومرویل

لبنان کے شہر طرابلس میں شامی روڈ تابانح اور جبل مہسن کو سنی شیعہ فرقوں کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے جس کے دونوں طرف نشانہ باز بیٹھے ہوتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سنی شیعہ تناؤ نے یہاں بھی ان علاقوں کو تقسیم کیا ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو مہینے میں یہاں جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جب کہ بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

عمارتوں پر گذشتہ جھڑپوں کے اثرات نظر آ رہے ہیں اور اس پر گولیاں کے بعض نشانات تازہ ہیں۔

اگر ایک طرف لوگ شام میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے بڑے پوسٹر لگا کر ان کو عزت افزائی کرتے ہیں تو دوسری طرف والے ان پوسٹروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

شام میں جاری کشیدگی کو لبنان کی گلیوں میں براہِ راست محسوس کیا جا رہا ہے۔

تل ابیب سے رچرڈ گیلپن

تل ابیب میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے اور گیس ماسک تقسیم کرنے والے سنٹر کے باہر لوگوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔

بعض لوگوں کو یہ ماسک حاصل کرنے میں چھ گھنٹے لگے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کی اتحادیوں کی طرف سے شام پر حملے کی صورت میں یہ گیس ماسک ان کے کام آئیں گے۔

یہاں پر لوگوں کو خدشہ ہے کہ شام پر حملے کی صورت میں شامی فوج یا جنوبی لبنان سے حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

گیس ماسک حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑی یولیا کہتی ہیں کہ ’یہ میرے اور میرے بچے کے لیے خوفناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ میرے لیے اس لیے بھی خوفناک ہے کہ میرے شوہر کو فوجی خدمات کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ہمارے لیے اس حملے کے اثرات انتہائی برے ہوں گے۔‘

شام کیا کرے گا؟

امریکہ اور فرانس کی جانب سے شام پر حملے کے حوالے سے بیانات کے بعد یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہا ہے تو ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے جواب میں شام کے پاس کیا راستہ ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے بدھ کو کہا تھا کہ کہ ان کا ملک مغربی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق بشارالاسد کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کی جانب سے براہ راست کارروائی کی دھمکیوں سے ان کے ارادے مزید مستحکم ہوں گے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے سنا کے مطابق صدر بشار الاسد نے یمن کے رکن پارلیمان سے کہا ہے کہ شام مغربی جارہیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔

انھوں نے کہا ’شام کے پُرعزم عوام اور بہادر افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لڑتے رہیں گے جس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل اور مغربی ممالک خطے کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں‘۔

اطلاعات کے مطابق شام کی فوج کے سینیئر کمانڈرز ان عمارتوں میں نہیں جا رہے ہیں جہاں ممکنہ طور پر حملہ ہو سکتا ہے۔

دمشق پر ممکنہ حملے کے پیش نظر کئی افراد شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

اہم سوال یہ ہے کہ شام پر جس طرح کے حملے کی بات کی جا رہی ہے اس سے خود کو بچانے کے لیے شام کی حکومت کیا کر سکتی ہے اور جوابی کارروائی کے لیے کس طرح کے اقدامات کا امکان ہے۔

اس کارروائی میں فکسڈ ونگ طیارے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا ہے تو ان کے ذریعے شام کی فضائی حدود کے باہر سے یہ حملے کیے جا سکتے ہیں جس کا مقابلہ شام کے دفاعی نظام کے لیے مشکل ہوگا۔

شام کا فضائی دفاعی نظام بہترین ہوا کرتا تھا۔ تاہم یہ پرانے روسی ہتھیاروں پر مشتمل ہے جن میں حال ہی میں کچھ نئے ہتھیار بھی شامل کیے گیے ہیں جن میں چین کا سپلائی کیا گیا ریڈار سسٹم بھی ہے۔

تاہم مغربی ممالک کی جدید فضائیہ ان ہتھیاروں سے اچھی طرح واقف ہے جو شام کے پاس ہیں۔

ابھی شام کے ایس 300 سسٹم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا جو شام نے ماسکو سے منگوائے تھے۔ یہ سسٹم یا تو ابھی سپلائی نہیں کیا گیا یا پھر آپریشنل نہیں ہے۔

تو شام اگر خود ان حملوں کا جواب نہیں دے سکا تو پھر اس کی جوابی کارروائی کیا اور کیسے ہوگی۔

ایک راستہ تو یہ ہوگا کہ شام ملک کے اندر باغیوں کے خلاف حملے شدید کردے تاکہ اپنی افواج کی حوصلہ افزائی کر سکے اور امریکہ اور اس اتحادیوں کو یہ پیغام دے سکے کہ اسد حکومت اپنے موقف پر قائم ہے۔

دوسرا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ اردن میں امریکی افواج، ترکی یا پھر اسرائیل پر حملہ کر کے اس لڑائی کا دائرہ وسیع کر دے۔ اس صورتِ حال میں بشار الاسد حکومت کے لیے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ اردن میں امریکی افواج اور ترکی خود اپنا دفاع کر سکتا ہے۔

دونوں ہی ممالک میں میزائل شکن نظام موجود ہے اور اسرائیل پر حملے کے امکان کم ہیں کیونکہ شام کی فوج خانہ جنگی میں الجھی ہوئی ہے۔

اسرائیل کے خلاف حملہ ایک بڑی جوابی کارروائی میں تبدیل ہو سکتا ہے جو ایک بڑی علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جو نہ تو دمشق کے حق میں ہوگا اور نہ ہی ایران کے حق میں۔

شام دوسرے ممالک میں امریکی اور مغربی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے حزب اللہ کا استعمال کر سکتا ہے۔

اگر شام پر حملہ ہوتا ہے تو مندرجہ ذیل نقشے میں ان ممکنہ احداف کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اتحادی افواج امریکی کی قیادت میں حملہ کر سکتی ہیں۔

مداخلت کے حامی اور مخالف ملک

اسی بارے میں