برطانیہ میں جنسی واقعات کی شکایات میں اضافہ

Image caption جمی سیوائل پر بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات کے بعد سے لوگوں میں اس معاملے کے تئیں بیداری پیدا ہوئی ہے

برطانیہ میں بچوں کے لیے کام کرنے والی ایک رضا کار تنظیم این ایس پی سی سی کا کہنا ہے کہ جنسی استحصال کے واقعات کی شکایات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

این ایس پی سی سی کے مطابق صلاح و مشورے کے لیے ان کے 24 گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائنز پر کالز کی تعداد جون جولائی میں سنہ دو ہزار بارہ کے اسی دورانیہ کے مقابلے دوگنی تھیں۔

تنظیم کے مطابق اس کی وجہ جمی سیوائل سکینڈل کے بعد بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہے۔

تنظیم نے مزید کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اب اس بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرنے کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہیں۔

رضاکار تنظیم کا کہنا ہے کہ سیوائل معاملے کے گیارہ مہینے بعد لوگ اب زیادہ سے زیادہ ان کی ہیلپ لائن کا استعمال کر رہے ہیں۔

تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال جون جولائی کے دوران 594 جنسی استحصال کے معاملے ان کی ہیلپ لائن پر آئے جبکہ اسی مدت میں گزشتہ سال 323 افراد نے شکایت درج کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے یہ اضافہ 84 فیصد ہے۔

ان تمام معاملات کو پولیس اور سماجی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے پاس بھیج دیا گيا ہے۔

اس ہیلپ لائن کے سربراہ جان کیمرن کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال آنے والی کالز میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ لوگ اپنی باتیں کہنے اور خدشات ظاہر کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا یہ کافی حوصلہ افزا بات ہے کہ وہ بالغ افراد جن پر ابھی بچوں کی براہ راست ذمہ داری بھی نہیں ہے اگر وہ کسی بچے کو خطرے میں گھرا محسوس کرتے ہیں تو وہ اس پر کارروائی کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سیوائل سکینڈل نے پورے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے عوامی بیداری میں اضافہ بھی کیا تھا کہ ’بچوں کے لیے اس بابت بات کرنا اور کسی مشتبہ شخص کے بارے میں بڑوں کے لیے براہ راست رپورٹ کرناکتنا مشکل ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں