’شام میں محدود کارروائی پر غور کر رہے ہیں‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں وہ شام کے خلاف ’محدود کارروائی‘ پر غور کر رہے ہیں۔

دریں اثنا شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی ایک ٹیم سنیچر کو دمشق سے لبنان پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے شام میں چار دن تک معائنہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کي مون نے سفارت کاروں کو بتایا کہ ان کی حمتی رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ جائے گے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونالی کا کہنا ہے کہ شام سے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کے نکلنے سے امریکہ کی سربراہی میں شام پر حملے کی ایک عملی اور سیاسی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

اس سے پہلے صدر اوباما نے جمعے کو بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شام کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم انھوں نے شام پر زمینی حملے کو خارج از امکان قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ ان کے حلیف اور دنیا کے ممالک کے لیے خطرہ ہے۔

صدر براک اوباما نے کہا کہ ’ہم ایسی دنیا کو قبول نہیں کر سکتے جہاں عورتوں، بچوں اور معصوم شہریوں کو خوفناک حد تک کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کو قائم رکھے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن شام کے خلاف ’محدود کارروائی‘ پر غور کر رہا ہے اور شام پر زمینی حملہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی یہ کوئی لمبے عرصے کی مہم ہوگی۔

صدر براک اوباما کے بیان سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ دمشق کے مضافات میں اکیس اگست کو شامی حکومت کی جانب سے کیے گئے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں 1429 افراد ہلاک ہو گئے۔

جان کیری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں 426 بچے بھی شامل تھے اور انہوں نے اس حملے کو ’ناقابلِ تصور دہشت ‘ قراد دیا۔

انہوں نے فوجی کارروائی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ اس حوالے سے ان کی حکومت کانگریس کے سربراہوں سے بات کرے گی۔

شامی حکومت اس کیمیائی حملے سے انکار کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی باغیوں نے کیا تھا۔

جان کیری نے کہا تھا کہ ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ 1429 افراد کیمیائی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے اور اس حملے کے لیے شامی کی حکومتی افواج نے تین دن قبل سے تیاری کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ حکومتی انتظام کے علاقوں سے راکٹ برسائے گئے اور وہ باغیوں کے زیر انتظام علاقے میں گرے‘۔

’ہمیں ان تمام باتوں کا علم ہے اور امریکی انٹیلیجنس حکام ان معلومات کے بارے میں بہت زیادہ پراعتماد ہیں‘۔

شام نے امریکی الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے جاری معلومات کی اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:-

  • اس حملے میں 426 بچوں سمیت کل 1429 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔
  • حملے سے تین دن قبل اس علاقے میں شامی فوج کے کیمیائی اسلحے کے اہلکار کام کر رہے تھے۔
  • سیٹلائٹ سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے کیمیائی حملے کی رپورٹ سامنے آنے سے 90 منٹ قبل حکومت کے قبضے والے علاقے سے راکٹ داغے گئے تھے۔
  • حملے کے متعلق تقریباً 100 ویڈیوز میں یہ علامات دیکھنے میں آئی ہیں جو اعصاب کو متاثر کرنے والے عوامل کے زیرِ اثر آنے پر دیکھی جاتی ہیں۔
  • دمشق کے ایک سینیئر اہلکار کی بات چیت کو انٹرسپٹ کرنے سے اس بات کی توثیق ہو گئی کہ ’ کیمیائی اسلحے کا استعمال ہوا ہے‘ اور وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ثبوت ملنے کے تعلق سے تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔
  • ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ ان کے تجزیے کی طبی ماہرین، گواہوں، صحافیوں، ویڈیوز اور ہزاروں میڈیا رپورٹز سے توثیق ہوتی ہے۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس شواہد موجود ہیں اور معائنہ کاروں کی رپورٹ میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئے گی۔اس کے جواب میں شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا نے کہا کہ ’ جان کیری پرانی کہانیوں پر مبنی مواد کا استعمال کر رہے ہیں جنہیں ایک ہفتے قبل دہشت گردوں نے شائع کیا تھا۔‘

اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اراکین میں سے ایک روس کی مخالفت کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شام کے خلاف کسی فوجی کاروائی کی منظوری ممکن نظر نہیں آتی۔

اس سے قبل چین کے ہمراہ روس نے شام کے خلاف دو بار مجوزہ قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر اوباما اور فرانسیسی صدر اولاند کے درمیان شام کے مسئلے پر جمعہ کو گفتگو ہوئی۔

واضح رہے کہ فرانس اور امریکہ کو برطانیہ کی طرح فوجی کارروائی کے لیے پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکہ کے ایک دوسرے اتحادی ترکی نے سابق یوگوسلاویہ کے خلاف 1999 میں ہونے والے نیٹو بم حملے کی طرز پر شام کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا ہے۔

یاد رہے کہ نیٹو نے اقوام متحدہ کی کسی قرارداد کے بغیر کوسوو کے عوام کی حفاظت کے لیے 70 دنوں تک فضائی حملے جاری رکھے تھے۔

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے یہ بھی کہا کہ فوجی مداخلت بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کے لیے کی جانی چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق شام میں مارچ 2011 میں شروع ہونے والی کشیدگی میں تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک اور تیرہ لاکھ بے گھر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں