فوکو شیما:تابکاری اندازے سے اٹھارہ گنا زیادہ

Fukushima
Image caption جاپان کا یہ جوہری پلانٹ دو ہزار گیار میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے متاثر ہوا تھا

جاپان میں حکام کا کہنا ہے کہ فوکو شیما جوہری پلانٹ کے اردگرد تابکاری کی سطح گزشتہ اندازوں سے اٹھارہ گنا زیادہ ہے۔

گزشتہ ہفتے فوکو شیما جوہری پلانٹ کو چلانے والی ٹوکیو الیکٹرک پاؤر کمپنی(ٹیپکو) کے حکام نے کہا تھا کہ ایک ٹنکی سے تابکاری سے آلودہ پانی کا زمین پر اخراج ہوا تھا۔

اتوار کو حکام کے مطابق سنیچر کو کیے جانے والے معائنے سے پتہ چلا کہ لیک ہونے والے ٹینک کے قریب تابکاری کی سطح میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ اس میں چار گھنٹے گزارنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

فوکو شیما: تابکاری سے خطرے کی سطح میں اضافہ

ٹیپکو کا پہلے کہنا تھا کہ لیک ہونے والے پانی سے پیدا ہونی والی تابکاری ایک گھنٹے میں سو ملی سیورٹس( تابکاری کا پیمانہ) فی گھنٹہ ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ تابکاری کی مقدار معلوم کرنے کے لیے پہلے جو آلہ استعمال کیا گیا تھا وہ صرف سو ملی سیورٹس تک تابکاری کے اخراج کا ریکارڈ لے سکتا تھا۔

ایک دوسرے مزید حساس آلے کے استعمال کرنے سے پتہ چلا ہے کہ وہاں تابکاری کی سطح 1800 ملی سیورٹس ہے۔

ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار ونگفیلڈ ہائیس کا کہنا ہے کہ تازہ معائنے کا گزشتہ ہفتے پلانٹ پر پانی کا اخراج روکنے والے کارکنوں پر تابکاری کے اثرات پر براہ راست اثر انداز ہو گا۔

دریں اثناء ٹیپکو کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے پائپ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس سے230 ملی سیورٹس فی گھنٹہ کے حساب سے تابکاری خارج رہی ہے۔

جاپان کا یہ جوہری پلانٹ دو ہزار گیار میں آنے والے زلزلے اور سونامی سے متاثر ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اس میں تابکاری سے آلودہ پانی کے اخراج اور بجلی کی فیل ہونے کے واقعات مسلسل پیش آتے رہے ہیں۔

سونامی کی باعث اس پلانٹ کو ٹھنڈا رکھنے کے نظام کو نقصان پہنچا تھا اور اس کے تین حصے حدّت سے پگھل گئے تھے۔

حالیہ لیک کے پیش نظر نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی کے حکام نے تابکاری کی سطح کو درجہ تین میں کر دیا تھا۔

تابکاری کو جانچنے کے لیے جو بین الاقوامی معیار ہیں اس میں درجہ اؤل کم ترین درجہ ہے جبکہ ساتواں درجہ سب سے خطرناک مانا جاتا ہے۔

تابکاری کے خطرے کی انتہائی حد سے پہلے سات درجات ہوتے ہیں۔ درجہ ’صفر‘ جہاں کوئی خطرہ نہیں ہوتا، پھر درجہ ایک سے تین جس میں کسی ’واقعے‘ کی نشاندہی کی جاتی ہے، جبکہ چار سے سات تک کے درجوں میں کسی ’حادثے‘ کی نشاندہی اور شدت واضح کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں