نیلسن مینڈیلا کو گھر منتقل کر دیا گیا

Image caption نیلسن مینڈیلا سنہ 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں

جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سابق صدر نیلسن مینڈیلا کو ہسپتال سے جوہانسبرگ میں واقع ان کے گھر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک دن پہلے سنیچر کو حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی کہ سابق صدر مینڈیلا کو ہسپتال سےجوہانسبرگ میں واقع ان کے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اتوار کو صدارتی دفتر کی ویب سائٹ کے مطابق نیلسن مینڈیلا کی حالت نازک لیکن مستحکم ہے اور گھر میں بھی ان کو انتہائی نگہداشت میں رکھا جائے گا۔

’نیلسن منڈیلا کی صحت مستحکم لیکن نازک‘

مینڈیلا پچانوے برس کے ہو گئے

نیلسن مینڈیلا گزشتہ دو ماہ سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث پریٹوریا کے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

گزشتہ سنیچر کو جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی صحت مستحکم لیکن نازک ہے۔ لیکن اس کے بعد ان کی صحت کے بارے میں کوئی نئی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

گزشتہ دو برسوں میں 95 سالہ مینڈیلا پانچ بار ہسپتال میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل میں انہیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

نیلسن مینڈیلا کے زیادہ عرصے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد لوگوں میں ان کی صحت کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان کو پھیپھڑوں کا انفیکشن جیل کے زمانے میں ہوا جہاں انہوں نے تقریباً تیس سال گزارے تھے۔

ان کی علالت کے دوران جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما لوگوں سے ان کی صحتیابی کی دعا کرنے کی استدعا کرتے رہے ہیں۔

نیلسن مینڈیلا سنہ 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے۔ انہوں نے سنہ 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

مینڈیلا نے 20 سال سے زیادہ عرصے قید میں گزارا اور انہیں فروری 1990 میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر سنہ 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں