سوئز کنال میں حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ

Image caption سوئز نہر بحر احمر اور بحر الاوسط کے درمیان اہم ترین تجارتی راستہ ہے

مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک مال بردار جہاز پر حملے کو ناکام بنا دیا ہے جو کہ سوئز نہر میں جہاز کے نقل و حمل کو متاثر کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔

سوئز نہر محکمے کے سربراہ ایڈمرل محب ممیش نے کہا کہ ’دہشت گرد عناصر‘ نے پناما کے پرچم والے ایک جہاز کو سنیچر کو نشانہ بنایا لیکن وہ جہاز کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں دو دھماکے ہوئے تھے لیکن ابھی تک اس حملے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کا سینائی علاقہ صدر مرسی کی حکومت کی برطرفی کے بعد سے تشدد کا شکار رہا ہے۔

غیر مصدقہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کے روز گرینچ مین ٹائم کے مطابق ساڑھے بارہ بجے ’کوسکو ایشیا‘ نامی ایک جہاز پر دو دھماکے ہوئے جو اس وقت ادھر سے گزر رہا تھا۔

واضح رہے کہ سوئز نہر پورٹ سعید اور سوئز کے درمیان ایک انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے جو بحر احمر اور بحر الاوسط کے درمیان قائم ہے۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ حملہ صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف اخوان المسلمین کے حامیوں کے موجودہ مظاہروں سے منسلک ہے۔

مصری فوج نے تین جولائی کو صدر محمد مرسی کو برطرف کر دیا تھا۔

دریں اثنا جمعہ کو مرسی حامیوں اور مرسی مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل عوام کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن میں سینکڑوں مرسی حامی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تشدد کی یہ لہر طور سینا کے خطے میں پھیل چکی ہے جہاں اسلام پسند جنگجو حکومت کے عملے پر حملہ کر رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ کو دو الگ الگ حملوں میں دو پولیس کے جوان مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایک علیحدہ واقعے میں سنیچرکو سینائی سے ایک اہم شدت پسند رہنما کو گرفتار کیا گيا ہے۔ ان پر گزشتہ ہفتے اس واقعے میں ملوث ہونے کا شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس میں 25 پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس حملے کو انجام دینے والے گروپ کا القاعدہ سے تعلق ہے۔

سنیچر کو ہی عراق میں القاعدہ کے ایک رہنما نے ایک صوتی پیغام جاری کیا ہے جس میں مصری فوج کے جوانوں سے بغاوت کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسی بارے میں