شام کے خلاف کارروائی میں کس اسلحہ کا استعمال ہوگا؟

شام کی حکومت پر عوام کے خلاف کیمیائي ہتھیار کے استعمال پر امریکہ شام کے خلاف فوجی کارروائی پرغور کر رہا ہے۔ ایسے میں ہم ان اسلحوں کی تفصیل پیش کر رہے ہیں جو اس فوجی کارروائی کے دوران دونوں جانب سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

امریکی فوجی قوت

  • ٹوماہوک کروز میزائل
Image caption ٹوماہاک کروز میزائل امریکہ کی فوجی قوت کا اہم جز ہے

ان میزائلوں کو بحری جہاز یا آب دوز سے بھی داغا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے ٹربو فین انجنوں سے لیس ہیں جیسے کہ کاروباری طیاروں میں ہوتے ہیں جن کا استعمال وہ اپنے حدف تک پہنچنے کے لیے کرتی ہیں۔

یہ بہت کم اونچائی پر پرواز کرسکتا ہے اور اس کا پتہ چلانا کافی مشکل ہے۔ چونکہ یہ بہت کم گرمی کا اخراج کرتے ہیں اس لیے انفرا ریڈ کے ذریعہ اس کا پتہ چلنا مشکل ہے۔

یہ 1600 کلو میٹر کے فاصلے تک اپنے حدف کو 880 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

  • آرلے برک - کلاس ڈسٹرائر
Image caption مشرقی بحرالاوسط میں امریکہ کے چار آرلے برک- کلاس ڈسٹرایر نصب ہیں

مشرقی بحرالاوسط میں امریکہ کے چار آرلے برک- کلاس ڈسٹرائر موجود ہیں۔ اس جہاز کی لمبائی 154 میٹر ہے اور کروز میزائل نصب ہیں۔ یہ امریکہ کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ اسلحوں سے لیس جنگی جہازوں میں سے ایک ہے۔

یہ امریکہ کا پہلا ایسا جہاز ہے جسے جوہری، حیتیاتی اور کیمائی حملوں سے حفاظت فراہم کرنے والے جہاز کے طور پر بنایا گیا ہے۔

  • طیارہ بردار بحری جہاز
Image caption اس خطے میں یوایس ایس نمیٹز بھی موجود ہے جس پر 85 طیارے رہ سکتے ہیں

اس خطے میں امریکہ کے دو طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین اور یو ایس ایس نیمٹز ہیں۔ یہ دونوں جہاز جوہری اسلحے سے لیس جنگی جہاز ہیں جو فضائی حملے کے اہل ہیں۔ اگر امریکہ کا محدود کارروائی کا منصوبہ ہے تو عین ممکن ہے کہ ان کا استعمال نہیں ہوگا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے جہازوں میں شامل ہے۔ اس کی لمبائی قریب 330 میٹر ہے اور اس پر 85 طیارے کی سہولیات دستیاب ہیں۔

  • ایف-16 طیارہ
Image caption ایف 16 کا دنیا کے سب سے زیادہ قابل اعتماد طیاروں میں شمار ہوتا ہے

ایف-16 کاشمار دنیا میں سب سے بھروسے مند طیاروں میں ہوتا ہے جسے کافی مؤثر ڈھنگ سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا استعمال کثیر جہتی ہے اس سے فضا میں ہی دوسرے طیارے پر حملہ کیا جا سکتا ہے اور زمین پر تلاش کرکے اپنے حدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

یہ طیارے امریکی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ طیارہ 3220 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ میدان جنگ میں زیادہ دیر تک رہ سکتا ہے۔ اس پر ایم 61 عقابی تو نصب ہے اور بہتر بصارت کے لیے اس کا پائلٹ بغیر کسی فریم والے شیشے کے ایک بلبلے میں بیٹھا ہوتا ہے۔

امریکہ کے ایف-16 طیارے ترکی کے ازمیر میں موجود ہیں اور شاید اردن سے بھی ان کا استعمال ہو سکتا ہے اور اسے شام کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے میں استعمال کیا جائےگا۔

  • ایف-15 سٹرائک ایگل
Image caption ایف 15 محض سو فیٹ کی اونچائی پر پرواز کر سکتا ہے

یہ امریکہ کا ایک ہرفن مولا طیارہ ہے۔ اسے لمبی دوری اور زمین پر تیز رفتاری کے ساتھ حملے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں جڑواں انجن ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ سیدھے اوپر کی جانب جا رہا ہو تب بھی اس کی رفتار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ محض سو فٹ کی اونچائی پر بھی پرواز کر سکتا ہے۔

فرانسیسی قوت

Image caption چارلس ڈی گال یا ٹولن جوہری اسلحہ بردار جہاز ہے اور اس پر 40 جنگی طیارے ڈھوئے جا سکتے ہیں۔

اگر فرانس حملے میں حصہ لیتا ہے تو یہ اپنے سکالپ کروز میزائل کا استعمال کر سکتا ہے جو 500 کلو میٹر تک مار کر سکتا ہے اور اسے میراج 2000 اور رفیل جنگی طیاروں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بحرالاوسط میں اس کے طیارہ بردار جہاز موجود ہیں اور متحدہ عرب امارات میں اس کا ایئر بیس بھی موجود ہے۔

ان کا چارلس ڈی گال جسے اب ٹولن کہا جاتا ہے جوہری اسلحہ بردار جہاز ہے اور اس پر 40 جنگی طیارے موجود ہیں۔ اگر چہ یہ امریکی نیمیٹز کلاس سے چھوٹا طیارہ بردار جہاز ہے لیکن کافی اہم ہے۔ اس کی لمبائی 262 میٹر ہے۔

روسی قوت

Image caption موسکوا نامی میزائلی کروزر ہے

روس نے کہا ہے کہ وہ بحرالاوسط میں اپنے دو جنگی جہاز روانہ کررہا ہے۔ ایک موسکوا نامی کروزر ہے اور دوسرا آبدوز شکن جہاز۔ روس شام کا اتحادی ہے اور شام پر حملے کی مخالفت کرتا ہے۔

یہ معلوم نہیں کہ اس خطے میں یہ دونوں جہاز کب آئیں گے تاہم روس نے کہا ہے کہ بحرالاوسط میں باری باری سے یہ ان کے جہاز کی تعیناتی کا حصہ ہے۔

اہم شامی ہتھیار

  • ایس-200 میزائل
Image caption شام کے اہم اسلحوں میں سے ایک ہے ایس- 200

ایس-200 میزائل جسے نیٹو ممالک میں ایس اے-5 گیمن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ طیارہ شکن میزائل ہے جسے روس نے 1960 کی دہائی میں تیار کیا تھا۔

ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام کے پاس ممکنہ طور پر ایسے آٹھ ایس-200 ہیں۔

یہ میزائل رقیق ایندھن سے چلتا ہے اور میک آٹھ کی رفتارسے یہ پرواز کر سکتا ہے۔ یہ گائڈڈ میزائل ہے جسے ریڈار کی مدد سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ 217 کلو دھماکہ خیز مادہ بھیجا جا سکتا ہے۔

  • ایس-300 طیارہ شکن میزائل نظام، غیر مصدقہ

اطلاعات کے مطابق شام نے روس کو ایس-300 طیارہ شکن میزائل کا آرڈر دے رکھا ہے لیکن اس بارے میں شک ہے کہ آیا یہ نظام اسے دیا گیا ہے یا نہیں اور آیا یہ کام کرنے کی پوزیشن میں بھی ہے۔ یہ ایس-200 کے مقابلے زیادہ ایڈوانسڈ نظام ہے۔

یہ زیادہ فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور زمین سے فضا میں نشانہ لگا سکتا ہے۔

  • پی-800 یاخونت جہاز شکن میزائل
Image caption پی-800 یاخونت جہاز شکن میزائل کو نیٹو ممالک ایس ایس- این- 26 کے طور پر جانتے ہیں

پی-800 یاخونت جہاز شکن میزائل کو نیٹو ممالک ایس ایس- این- 26 کے طور پر جانتے ہیں۔ یہ پیچیدہ نظام پر مشتمل بحری جہاز شکن میزائل ہے جسے روس نے تیار کیا ہے۔

آواز سے زیادہ رفتار سے سفر کرنے والے اس میزائل کی رینج 300 کلو میٹر تک ہے۔ اور یہ 200 کلو گرام دھماکہ خیز مواد لے جا سکتا ہے۔اسے پانچ سے پندرہ میٹر کی اونچائی پر روانہ کیا جا سکتا ہے اس لیے اس کا پتہ چلانا کافی مشکل ہے۔

  • جنگی جہاز
Image caption ایل 39 کا استعمال شام کی جانب سے کیا جا سکتا ہے

شام کی فوج کے پاس متعدد قسم کے جنگی طیارے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر روسی ساخت کے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر پرانے اور بےکار ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کی مئی میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ مگ اور ایس یو طیاروں کو اہم پرزوں کی مسلسل فراہمی اور دتکھ بھال کی کافی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کے متعلق تربیت بھی اہم معاملہ ہے۔