’تین چوتھائی برطانوی شام پر کارروائی کے مخالف‘

Image caption چالیس فیصد افراد نے وزیر اعظم کی کارکردگی پر مثبت رائے دی جبکہ پیالیس فیصد نے منفی رائے دی

بی بی سی کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق تین چوتھائی برطانوی شہری سمجھتے ہیں کہ برطانوی دارالعوام کے اراکین شام پر فوجی کارروائی کو رد کرنے میں درست تھے۔

اس جائزے کے مطابق بہتر فیصد افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اس اقدام سے امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات متاثر ہوں گے اور دو تہائی افراد نے کہا کہ اگر اس سے تعلقات متاثر ہوتے بھی تو انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔

آئی سی ایم ریسرچ نے ایک ہزار بالغ افراد سے انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں جمعے اور پیر کے درمیانی عرصے میں فون پر بات کی۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ شام پر دوبارہ دارالعوام میں ووٹ نہیں لیا جائے گا۔

برطانوی حکومت کو گزشتہ ہفتے شام میں فوجی کارروائی کے بل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جس عرصے کے دوران یہ جائزہ لیا گیا صدر براک اوباما نے بھی کہا کہ وہ کانگریس سے اس معاملے میں رائے لیں گے جبکہ جان کیری کا کہنا تھا امریکہ کے پاس اس بات کے شواہد ہیں کہ شامی حکومت نے گزشتہ مہینے میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔

شامی نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج نے نہیں بلکہ امریکی حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

اس جائزے میں شرکت کرنے والے اکہتر فیصد افراد نے کہا کہ برطانوی دارالعوام نے کارروائی کے خلاف ووٹ دے کر درست کیا ہے جس میں سے بہّتر فیصد مرد جبکہ ستّر فیصد خواتین شامل تھیں۔

اس جائزے سے حاصل شدہ معلومات تقریباً دوسرے کئی جائزوں سے مماثلت رکھتی ہیں جن کا کہنا ہے کہ برطانوی عوام کی خاصی اکثریت شام میں فوج مداخلت کے خلاف ہے۔

انچاس فیصد افراد کا ماننا تھا کہ اس سے برطانیہ کی کی عالمی سطح پر ساکھ متاثر ہو گی جبکہ سولہ فیصد کا ماننا تھا کہ اس سے ملک کی ساکھ متاثر ہو گی۔

چوالیس فیصد افراد کا ماننا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

تینتیس فیصد افراد کا خیال تھا برطانوی حزب اختلاف کی لیبر پارٹی ایڈ ملی بینڈ اس معاملے سے اچھی طرح نبرد آزما ہوئے جبکہ انتالیس فیصد کی رائے اس کے خلاف تھی۔

چالیس فیصد افراد نے وزیر اعظم کی کارکردگی پر مثبت رائے دی جبکہ پیالیس فیصد نے منفی رائے دی جو کہ دو فیصد کے منفی فرق کے ساتھ ہے۔

اسی بارے میں