سلطان سلیمان کا دل

ہنگری کے محققین کی ایک ٹیم رواں ماہ ترکی کے عثمانیہ دور کے سب سے مشہور سلطان سلیمان کے دل کی تلاش کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کرے گی۔ لیکن تقریباً ساڑھے چار سو سال پرانی اس تاریخی گتھی کو سلجھانا اتنا اہم کیوں ہے؟

فرانس کے مذہبی رہنما کارڈینل رچیلیو نے چار سو سینتالیس سال پہلے ہنگیریئن قلعے کے محاصرے کے بعد ہونے والی لڑائی کو ’تہذیب کے تحفظ‘ کی لڑائی قرار دیا تھا۔

مسلمان ترکوں نے ستمبر 1566 میں آخر کار اس زیگیٹوار کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا لیکن انہیں بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا جس میں لیڈر سلطان سلیمان کی موت بھی شامل تھی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ہنگری کے علاقے زیگیٹوار میں سلطان سلیمان کا دل دفن ہے۔

محقق عظیم سلطان کے دل کی تلاش کے لیے زمین کی کھدائی اور مختلف ممالک میں تاریخی آرکائیوز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف پیكس میں جغرافیہ کے پروفیسر نوبرٹ پیپ کا کہنا ہے ’جب ہنگری کے لوگ زیگیٹوار میں اس قلعے کی زمین پر چلتے ہیں تو وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ اس قلعے سے گزر رہے ہیں۔ لیکن یقینی طور پر یہ درست نہیں ہے۔‘

وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’حقیقت میں یہ ایک ترک قلعہ ہے۔ ہنگیریئن قلعہ تو 1566 کی لڑائی میں تباہ ہوگیا تھا۔‘

سلطان سلیمان اگست 1566 میں سلطنت عثمانیہ کے ایک لاکھ سپاہیوں کے ساتھ یہاں آئے تھے۔

سلطان سلیمان ویانا کی جانب سفر کر رہے تھے جہاں انہیں پورا یقین تھا کہ وہ قبضہ کر لیں گے۔ لیکن یہ قلعہ ان کے راستے میں پڑتا تھا اور وہ مغربی یورپ کے عظیم نشانیوں کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہتے تھے۔

لیکن قلعے کے کمانڈر مكلوس زرنيي نے اپنے دو ہزار تین سو سپاہیوں کے ساتھ ترک سپاہیوں کا خوب مقابلہ کیا۔

Image caption سلطان سلیمان 1529 میں ویانا کا محاصرہ کر چکے تھے

لیکن اس کے بعد آخری مرحلے میں قلعے میں لگنے والی آگ سے زرنيي ہلاک ہوگئے۔

سلطان سلیمان کی اپنے خیمے میں موت ہوگئی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی غیر متوقع فتح کے جوش میں ان کی موت ہوئی۔ اس وقت ان کی عمر 72 سال تھی اور انہیں ہنگری سے لڑتے ہوئے چالیس سال ہوگئے تھے۔

ان کی لاش کو سلطنت عثمانیہ کے دارالحکومت قسطنطنیہ لے جایا گیا، لیکن ان کے دل کو زیگیٹوار میں ہی ایک مقبرے میں دفن کر دیا گیا، جہاں بعد میں ایک کیتھولک چرچ بن گیا۔

اب پروفیسر پیپ کو وہ جگہ تلاش کرنی ہے جہاں اصل میں سلطان سلیمان کے دل کو دفن کیا گیا تھا۔

اس وقت ہنگری یا آسٹرو - ہینگیریئن سلطنت ترکی میں قائم سلطنت عثمانیہ کی بڑی اتحادی تھی۔ عالمی جنگ میں یہ دونوں سلطنتیں تباہی کے دہانے پر تھیں اور انہیں اس گہری دوستی کی علامتوں کی ضرورت تھی۔

اب ہنگری اور ترکی کے درمیان تعلقات بہت بہتر ہیں۔گزشتہ سال ترکی سے ہنگری آنے والے سیاحوں میں 45 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

اس موضوع پر ویٹیکن، بڈاپسٹ اور استنبول میں معلومات موجود ہیں۔ پروفیسر پیپ اور ان کی ٹیم ان معلومات کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کی تحقیق کے نتائج بیس ستمبر کو شائع کیے جائیں گے۔

پروفیسر پیپ کا کہنا ہے ’ یہ معاملہ صرف سلطان سلیمان کے دل کا نہیں، بلکہ 400 سال پرانی تاریخ اور جغرافیے کی ہر تہہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ہے اور ہم نے بہت کچھ دریافت کر لیا ہے۔‘