ترکی: بغاوت کے 100 ملزمان کے خلاف مقدمہ

Image caption ترک فوج بہت عرصے سے خود کو ملک کے سیکیولر آئین کا محافظ تصور کرتی ہے

ترکی میں سنہ انیس سو ستانوے میں اسلام پسند حکومت گرانے کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے والے ایک سو سے زیادہ ملزمان کے مقدمے کی سماعت آج شروع ہو رہی ہے۔

ترک فوج کے سابق سربراہ جنرل اسماعیل حقی کاراداعی ان سو ملزمان میں سے ایک ہیں جن کے خلاف مقدمہ آج دارالحکومت انقرہ میں شروع ہوگا۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اس بغاوت میں مدد کی جسے بعد میں ’پوسٹ مارڈن‘ بغاوت کا نام دیا گیا کیونکہ اس میں فوجی ملوث نہیں تھے۔

انیس سو ستانوے میں ترک وزیرِاعظم نچماتن اربکان کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا اور ان کی جگہ ایک سویلین حکومت آگئی تھی۔

وزیرِاعظم اربکان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے سلسلے میں گذشتہ سال متعدد ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنلوں پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ فوج کے ایک اور سابق سربراہ جنرل الکیر باشبو ان درجنوں افراد میں سے ایک تھے جنہیں ’ارکنغوں‘ کے نام سے معروف ایک بغاوت کے سلسلے میں سزا ہوئی تھی۔ جنرل الکیر باشبودو ہزار دس تک ترک فوج کے سربراہ رہے اور انہیں گذشتہ ہفتے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

اس مبینہ بغاوت کا مقصد موجودہ وزیرِاعظم اردوغان کی حکومت گرانا تھا۔

اس فیصلے کے ناقدین نے اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے سیکیولر مخالفین کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ترک فوج بہت عرصے سے خود کو ملک کے سیکیولر آئین کا محافظ تصور کرتی ہے۔

وزیرِاعظم نچماتن اربکان کی حکومت کو اٹھائیس فروری انیس سو ستانوے کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا اور بعد میں ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

جنرل اسماعیل حقی کاراداعی کا کہنا ہے کہ فوج کی سیاسی مداخلت میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

تاہم اس وقت ان کے نائب جنرل چویک بیئر اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا اصرار ہے کہ وہ صرف جنرل کاراداعی کے احکامات مان رہے تھے۔

پیر کو جنرل بیئر کے خلاف بھی مقدمے کی سماعت ہوگی۔

درین اثنا بغاوت کے دیگر مبینہ منصوبوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ترک فوج نے سنہ انیس سو ساٹھ سے سنہ انیس سو اسّی کے دوران تین مرتبہ حکومت کے خلاف بغاوت کی۔

گذشتہ سال ایک عدالت نے فوج کے تین سابق جرنیلوں کو بیس سال قید کی سزا سنائی۔ اس مقدمے میں تین سو افسران کو بغاوت میں ملوث ہونے کا مجرم پایا گیا۔

ان افسران پر سنہ دو ہزار تین میں اردوغان حکومت کے خلاف بغاوت کا جواز پیدا کرنے کے لیے مساجد میں بم حملے کرنے اور یونان کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے الزامات تھے۔

اسی بارے میں