امریکہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو کیسے تباہ کرے گا؟

Image caption صدر اوباما کے لیے شام پر حملے کا فیصلہ آسان نہیں ہے

امریکہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے زور دے رہا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ شام کے کیمیائی اسلحے کو کس حد تک نشانہ بناسکتا ہے۔

گزشتہ ماہ صدر اوباما نے ایک تقریر میں شام پر امریکہ کے حملہ کرنے کے مقاصد کو واضح کیا تھا۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملوں کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر صدر بشار الاسد کی حکومت کر سرزنش کرنا، اس قسم کے رویے کی حوصلہ شکنی کرنا اور شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

صدر اوباما شام پر حملہ کرنے سے پہلے کانگریس سے منظوری حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اب اس حملے کی نوعیت اور مقاصد سمیت اس بات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ ان حملوں میں کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو کسی حد تک براہ راست نشانہ بنایا جائے گا۔

سی آئی اے کا خیال ہے کہ شام کا کیمیائی ہتھیار بنانے کا پروگرام کافی پرانا ہے اور اس کے پاس کافی مقدار میں کیمیائی مادہ کا ذخیرہ ہے جو فضائی حملے، بلاسٹک میزائیلوں اور توپ خانے کے شیلوں کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مسٹرڈ گیس اور سرین گیس موجود ہے جو اعصاب کے لیے بہت مہلک ہوتے ہیں۔

سی آئی اے کے مطابق شام زیادہ مہلک کیمیائی مادے ایکس گیس بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

ایک رپورٹ میں ترکی، عرب اور مغربی خفیہ اداروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر ایک ہزار ٹن کے قریب کیمیائی مواد موجود ہے جو پچاس شہروں اور قصبوں میں رکھا گیا ہے۔

شام نے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی سے متعلق عالمی معاہدوں پر دستخط نہیں کیے ہوئے ہیں۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے کچھ حصے زیر زمین رکھے گئے ہیں جب کہ کچھ حصوں کو سٹلائٹس سے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کو شہری علاقوں کے قریب رکھا گیا ہے اور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان تنصیبات کو نشانہ اور تباہ کرنے کے لیے مسلسل بمباری کرنا ہو گی اور اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ کیمیائی مادہ ایک وسیع علاقے میں فضا میں پھیل سکتا ہے اور بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کئی سال سے اس کوشش میں ہے کوئی ایسا ہتھیار بنایا جائے جو کیمیائی ہتھیاروں کو ایسے تباہ کر دے کہ ان میں موجود مادہ فضا میں نہ پھیل سکے۔

اس طرح کے ’ایجنٹ ڈیفیٹ ویپنز‘ یا مادہ تباہ کرنے کے ہتھیار شاید امریکی کمانڈروں کو حاصل ہوگئے ہیں۔ یہ مختلف انداز میں عمل کرتے ہیں لیکن ان کا لازمی عنصر انتہائی درجے کی آگ پیدا کرنا ہوتا ہے جس سے کیمیائی اور حیاتیاتی مادہ بغیر ہوا میں پھیلے تباہ ہو جاتا ہے۔

Image caption امریکہ کے بحری جہاز شام کے نزدیک پہنچ چکے ہیں

ان بموں سے درجہ حرارت بارہ سو سے پندرہ سو سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کہ انتہائی درجہ حرارت کیمیائی اور حیاتیاتی مادوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اور دیگر اعصاب شکن گیس جن میں وی ایکس شامل ہیں کم درجوں میں بھی تباہ ہو جاتی ہیں۔

اس طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنے والے اسلحے کی موجودگی کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا۔ ان میں ایک ایسے نظام کو ’کریش پیڈ‘ کہا جاتا ہے جو انتہائی درجہ حرارت پیدا کرتا ہے۔ اس طرح کے ایک اور نظام کو ’پیسیو اٹیک ویپن‘ کہا پی اے ڈبلیو کہا جاتا ہے جس کا انحصار حرکی توانائی پر ہوتا ہے جس میں انتہائی درجہ حرارت پیدا کرنے کے لیے لوہے اور ٹنگسٹن استعمال ہوتا ہے۔

اس کے باوجود شام کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کی وسعت اور شہری علاقوں سے ان کی قربت کی وجہ سے امریکہ ان پر حملہ کرنے سے مکمل طور اجتناب کرسکتا ہے۔ تاہم ان تنصیبات کے کچھ حصوں پر حملہ کیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر ان تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے ذرائع پر۔

ان حملوں کا محفوظ ترین طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے ذرائع کو نشانہ بنایا جائے مثال کے طور توپ خانہ اور میزائیل داغے کی بیٹریاں اور شامی فضائیہ کے اڈے یا کیمیائی ہتھیاروں کے ہیڈکواٹرز اور دیگر عمارات جو ان سے متعلق ہیں۔

لیکن صدر اوباما کے لیے اور مسائل بھی ہیں۔ ان میں سے بہت سے اہداف اور صدر اسد کے وسائل ایسے ہیں کہ اگر انھیں تباہ کر دیا گیا تو طاقت کا توازن سرکاری فوجوں کے خلاف ہو جائے گا۔

بظاہر اوباما نے اس امکان کو رد کر دیا ہے اور اس دوران جب وہ کانگریس سے منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہو سکتا ہے انھوں نے اپنی سوچ کو بدل دیا ہے۔

امریکی پارلیمنٹ میں بہت سے اعلی اہلکاروں میں جہاں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو اسد حکومت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو محدود یا کسی قسم کی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔

صدر اوباما کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے تادیبی کارروائی پر منتخب ارکان کو راضی کرنا اور پھر اس کارروائی کی نوعیت کا فیصلہ کرنا اور اگر کارروائی کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو پھر اس حد تک کارروائی کرنا کہ اس سے شام میں طاقت کا توازن بلکل ہی باغیوں کے حق میں نہ چلا جائے۔

اسی بارے میں