جی20 اجلاس میں جاپانی اور چینی سربراہوں کی ملاقات

Image caption چینی صدر شی جن پنگ جی20 اجلاس کے موقعے پر روس میں ہیں

چینی اور جاپانی رہنماؤں نے جی20 سربراہی اجلاس کے موقعے پر غیرمتوقع طور پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے اور بات چیت کی۔

چین کے صدر شن جن پنگ اور جاپان کے وزیرِاعظم شنزو آبے کے درمیان اس سے قبل ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

دونوں ملکوں کے تعلقات ایک علاقائی تنازعے کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔ چین اور جاپان دونوں ہی مشرقی بحیرۂ چین میں جزیروں پر ملکیت کے دعوے دار ہیں۔

ان جزیروں کو جاپان میں سینکاکو اور چین میں دیاویو کہا جاتا ہے اور ان پر جاپان کا قبضہ ہے۔

گذشتہ وقت چین اس وقت برہم ہو گیا تھا جب جاپان نے ان جزیروں کو ایک شخص سے خرید لیا تھا۔

اس وقت کے بعد سے چینی بحری جہاز جزیروں کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ جاپان کا کہنا ہے کہ جزائر کے آس پاس کا سمندر اس کی ملکیت ہے۔

جاپانی حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جی20 کے رہنماؤں کے اجلاس سے تھوڑی دیر پہلے چار پانچ منٹ کی ملاقات کی۔

دنیا کے 20 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے سربراہوں پر مشتمل یہ اجلاس روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جمعرات کو شروع ہوا تھا۔

جاپانی حکومت کے ترجمان یوشی ہیدے سوگا نے بتایا کہ وزیرِاعظم آبے نے صدر شی سے کہا کہ ’ہمیں جاپان چین تعلقات کو سٹریٹیجک اور دونوں ملکوں کے لیے مفید تعلقات پر واپس لے جانا چاہیے۔‘

چین کے سرکاری خبررساں ادارے شن ہوا کے مطابق چینی صدر شن ہوا نے کہا کہ چین جاپان تعلقات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چین باہمی مفید تعلقات کا قائل ہے لیکن جاپان کو اس علاقائی اور تاریخی تنازعے کو تاریخ کا سامنا کرنے اور مستقبل پر نظر رکھ کر کرنا چاہیے۔‘

چین الزام لگاتا ہے کہ جاپان اس کے جنگ کے زمانے کے رویے سے متعلق معاملات کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی بارے میں