آسٹریلیا: ٹونی ایبٹ نے کیون رڈ کو شکست دیدی

Image caption حزبِ اختلاف کے رہنما ٹونی ایبٹ (دائیں) اور وزیرِ اعظم کیون رڈ برزبین میں

آسٹریلیا میں عام انتخابات میں حزب اختلاف کے اتحاد لبرل نیشنل اتحاد نے حکمران لیبر پارٹی کو شکست دیدی ہے۔

گزشتہ چھ سال سے حکومت میں موجود لیبر پارٹی کو شکست کے بعد اب لبرل نیشنل اتحاد کے حکومت بنانے کے واضح امکانات ہیں۔

ابتدائی جائزوں کے مطابق لیبر نیشنل اتحاد نے 91 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پچپن نشستیں لیبر پارٹی نے حاصل کی ہیں۔

لبرل رہنما ٹونی ایبٹ نے کہا کہ وہ ایک قابلِ اعتماد اور قابل حکومت بنانے کے خواہاں ہیں۔

ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد وزیراعظم کیون رڈ نے انتخابات میں شکست تسلیم کر لی تھی۔

وزیراعظم کیون رڈ نے کہا کہ اُنہوں نے لبرل کنزرویٹو اتحاد کے رہنما ٹونی ایبٹ کو فون کر کے فتح کی مبارکباد دی اور حکومت بنانے کے بعد مسائل سے نمٹنے کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ٹونی ایبٹ نے فتح کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ ’میں آج اعلان کرتا ہوں کہ آسٹریلیا ایک نئی انتظامیہ کے تحت ہے اور اب کاروبار کے لیے کھلا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بجٹ میں خسارہ کم کر کے فاضل بجٹ لائیں گے اور ایشیا سے آنے والی کشتیاں بند ہو جائیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیبر پارٹی کے لیے حمایت گزشتہ سو سالوں میں سب سے کم ہو گئی ہے اور نتائج ثابت کرتے ہیں کہ آسٹریلیا کے عوام ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کو سزا دیں گے۔

کیون رڈ نے کہا کہ ’میں نے اپنا سب کچھ دیا مگر یہ جیتنے کے لیے کافی نہیں تھا‘ مگر انہوں نے کہا کہ مستقبل میں لڑائی کے لیے ان کو کافی حمایت ملی ہے۔

کیون رڈ کی برسبین کے علاقے گریفن سے نشست ان کے پاس رہی اور انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی جماعت کے رہنما کے لیے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ عوام ایک نیا آغاز چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’لیبر پارٹی کے حامیوں کے دل بوجھل ہیں اور میں لیبر کے رہنما کے طور پر اپنی زمہ داری تسلیم کرتا ہوں۔‘

دونوں حریفوں میں اس بات پر اختلاف ہے کہ بجٹ میں خسارے کو کس طرح کم کیا جائے، تاہم دونوں نے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنے والے سیاسی پناہ گزینوں کی آمد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ہفتے کو ہونے والے انتخابات میں ایک کروڑ 40 لاکھ ووٹروں کے حصہ لینے کی توقع ہے۔ انتخابات سے کچھ ہی دیر قبل آسٹریلیا کے الیکشن کمشنر نے کہا کہ قبل از ووٹنگ میں 32 لاکھ ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں۔

وزیرِ اعظم رڈ نے تین ماہ قبل جولیا گیلارڈ کی جگہ سنبھالنے کے بعد ان انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ گیلارڈ نے 2010 میں رڈ کو ہٹا کر ان کی جگہ سنبھالی تھی۔

اس کے بعد سے لیبر پارٹی کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہوا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں ایبٹ آگے نکل گئے ہیں۔ انھیں روپرٹ مرڈوک کے اخبارات کی سرگرم حمایت حاصل ہے۔

مشرقی آسٹریلیا میں پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی، اور شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔ مغربی آسٹریلیا میں وقت کے فرق کی وجہ سے پولنگ دو گھنٹے بعد شروع ہوئی۔

دونوں امیدواروں کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ معیشت تھا۔ اگلی حکومت کو کان کنی اور دوسرے وسائل سے ہونے والی آمدنی میں کمی سے نمٹنا پڑے گا۔

دونوں جماعتوں نے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا کے ساحلوں تک پہنچنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کا تہیہ کیا ہے۔ بہت سے ووٹروں کے لیے یہ مسئلہ الجھن اور بے چینی کا باعث ہے۔

لیبر پارٹی کے منصوبے کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو پاپوا نیو گنی بھیجا جائے گا، اور اگر ان کی درخواست منظور ہو جائے تو انھیں وہیں بسا دیا جائے گا۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے ایک فوجی کمانڈر تعینات کریں گے، اور مستحق سیاسی پناہ گزینوں کو صرف عارضی لیکن قابلِ تجدید ویزے جاری کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں