سینا: فوج کا شدت پسندوں کے خلاف بڑا آپریشن

Image caption کہا جا رہا ہے کہ سینا میں کیے جانے والے آپریشنز میں سے یہ سب سے بڑا آپریشن ہے

مصر میں حکومتی افواج نے جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں کے خلاف وسیع کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور فوجیوں کے ساتھ اپاچی ہیلی کاپٹروں کے ساتھ کارروائی کا آغاز رفاہ کے علاقے میں کیا گیا جو غزہ کی پٹی کے ساتھ ملحقہ علاقہ ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ سینا میں کیے جانے والے آپریشنز میں سے یہ سب سے بڑا آپریشن ہے۔

مصر میں فوج نے حال ہی میں صحرائے سینا میں مسلح گرہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔

صحرائے سینا میں دو ہزار گیارہ میں صدر حسنی مبارک کی حکومت گرنے کے بعد سے مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

صحرائے سینا میں فوجی تعیناتی اسرائیل اور مصر کے درمیان سنہ انیس سو انہتر میں کیے گئے امن معاہدے کے تحت کی جاتی ہے۔

دوسری جانب مصری فوج نے نہر سوئز کے قریب سے مارٹر اور دیگر ہتھیار برآمد کیے ہیں جن کو ریل کی پٹڑی سے باندھا ہوا تھا۔

واضح رہے کہ یکم ستمبر کو مصر کے حکام نے کہا تھا کہ انھوں نے ایک مال بردار جہاز پر حملے کو ناکام بنایا تھا جو کہ نہر سوئز میں جہاز کے نقل و حمل کو متاثر کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔

نہر سوئز محکمے کے سربراہ ایڈمرل محب ممیش نے کہا تھا کہ ’دہشت گرد عناصر‘ نے پناما کے پرچم والے ایک جہاز کو کو نشانہ بنایا لیکن وہ جہاز کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں دو دھماکے ہوئے تھے لیکن ابھی تک اس حملے کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کا سینائی علاقہ صدر مرسی کی حکومت کی برطرفی کے بعد سے تشدد کا شکار رہا ہے۔

اسی بارے میں