کیمیائی اسلحہ:’شام کو روس کی تجویز منظور ہے‘

Image caption بشار الاسد کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دینے کی روسی تجویز منظور ہے۔

یہ بات شامی وزیر خارجہ نے روس کے دورے کے دوران کہی۔انہوں نے کہا کہ شام کو روسی تجویز منظور ہے تاکہ امریکی جارحیت کو روکا جا سکے۔

تاہم اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دینے کی روسی تجویز پر شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران کیسے عملدرآمد کیا جا سکے گا۔

’کیمیائی ہتھیار ترک کر دو‘: شام کو روسی تجویز

’کارروائی نہ کرنے کے خطرات، کرنے سے زیادہ‘

شام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: اوباما

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ فرانس کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرے گا جس میں شام سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دے دے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے۔

اس سے قبل فرانس نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرے گا جس میں شام سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دے دے تاکہ انھیں تباہ کیا جا سکے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

قرارداد میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کے مکمل معائنے کی درخواست کی جائے گی۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ اگر شام اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے دیتا ہے تو وہ شام پر امریکی حملے کا منصوبہ روک دیں گے۔

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بات پر زیادہ پرُ امید نہیں ہیں کہ شامی حکومت ایسا کرے گی۔

جہاں امریکی کانگرس شام پر حملے کی منظوری پر غور کر رہی ہے وہیں پیر کے روز روس نے شامی حکومت کو کیمیائی ہتھیار ترک کرنے کی تجویز دی تھی۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شامی حکومت نے اپنے عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں اور جنگی جرائم کی مرتکب ہوئے ہے تاہم دمشق ان الزامات کو رد کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام پر حملے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے لیے یورپ کا دورہ بھی کیا ہے۔

صدر براک اوباما نے امریکی عوام اور کانگریس میں شام پر حملے کی حمایت پیدا کرنے کے لیے چند ٹی وی چینلوں کو انٹر ویو دیے ہیں۔ صدر کا موقف ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سزا دینے اور مستقبل میں ان کے استعمال سے روکنے کے لیے ایک محدود فوجی کارروائی کی ضرورت ہے۔

صدر کا کہنا ہے کہ ’میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف موجود روایت قائم رہے۔‘

انہوں نے کہا ’یہ ہماری قومی سلامتی کے لیے مفید ہے۔ اگر ہم حملے کیے بغیر یہ حاصل کر سکتے ہیں تو میں اس راستے کو ترجیح دوں گا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ اگر بشار الاسد اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا کنٹرول چھوڑ دیتے ہیں تو کیا وہ شام پر حملے کا منصوبہ روک دیں گے، صدر کا کہنا تھا ’بالکل، اگر واقعی ایسا ہوا۔‘

دوسری طرف امریکی عوام شام پر حملے کے خلاف ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے عوامی جائزوں کے مطابق پانچ میں سے صرف ایک امریکی شہری کا خیال ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر شام کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے دوسری حکومتوں کو شہ ملے گی۔

اس سے پہلے روس نے شام سے کہا تھا کہ امریکی حملے سے بچنے کے لیے وہ اپنے کیمیائی ہتھیار بین الاقوامی کنٹرول میں دے اور بعد میں انھیں تباہ کروا دے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق انھوں نے یہ تجویز شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم سے ملاقات میں دی تھی جس کا انھوں نے خیر مقدم کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ولید معلم کو مشورہ دیا تھا کہ شام مکمل طور پر عالمی کنونشن برائے کیمیائی ہتھیار میں شمولیت اختیار کر لے۔

یاد رہے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ایک امریکی ٹی وی کو بتایا ہے کہ امریکہ کے پاس اس بات کا ’کوئی ثبوت‘ نہیں ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کے ایک حملے میں ایک ہزار چار سو انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جس سے شام انکار کرتا ہے۔

اسی بارے میں