’شام پرکارروائی دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں خبردار کیا کہ شام پر امریکی کارروائی دہشت گردی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گی۔

صدر ولادیمیر پوتن نے شام کے تنازعے پر براہِ راست امریکی عوام سے اپیل امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں ایک آرٹیکل کے ذریعے کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کروڑوں افراد امریکہ کو جمہوریت کے نمونے کی بجائے ایک ایسی طاقت تصور کرتے ہیں جو وحشیانہ طاقت پر انحصار کرتی ہے۔

شام کے معاملے پر بڑی طاقتوں کی بات چیت

شام پر حملہ روکا جا سکتا ہے: امریکی صدر

امریکہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے: بشار الاسد

جمعرات کو روس اور امریکہ کے وزرائے خارجہ جنیوا میں مذاکرات کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔

ماسکو جسے شامی صدر بشار الاسد کا حلیف سمجھا جاتا ہے نے شام کے کیمیائی ہتھیار عالمی برادری کے ماتحت کرنے کی تجویز دے رکھی ہے۔

منگل دس ستمبر کو شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا تھا کہ شام کو کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی تحویل میں دینے کی روسی تجویز منظور ہے۔

اس تجویز پر پش رفت کے بعد امریکی صدر اوبامہ نے سفارت کاری کے زریعے حل کو ایک اور موقع دینے کے لیے فوجی کارروائی پر ووٹ روک دیا تھا۔

صدر پوتن نے لکھا کہ ’حالیہ واقعات نے مجھے اس بات پر مجبور کیا ہے کہ میں امریکی عوام اور ان کی سیاسی قیادت سے براہِ راست مخاطب ہوں‘۔

صدر پوتن نے اقوامِ متحدہ کے حوالے سے خبردار کیا کہ اس کا حشر بھی لیگ آف نیشنز جیسا ہو سکتا ہے اگر ’بااثر ممالک اقوامِ متحدہ کو ایک جانب دھکیل کر بغیر سلامتی کونسل کی منظوری کے فوجی کارروائی کریں گے‘۔

انہوں نے لکھا ’شام پر ممکنہ امریکی حملے جس کی شدید مخالفت کئی ممالک کی جانب سے ہے، دنیا کی اعلیٰ سیاسی اور مذہبی قیادت کی جانب سے ہے جن میں پوپ بھی شامل ہیں کے نتیجے میں مزید معصوم افراد ہلاک ہوں گے اور اس سے یہ تنازعہ شام کی سرحد سے باہر پھیل سکتا ہے۔‘

روسی صدر نے لکھا کہ ’روس شامی حکومت کو تحفظ فراہم نہیں کر رہا بلکہ عالمی قانون کا تحفظ کر رہا ہے۔‘

انہوں نے ایک بار پھر روسی موقف کو بیان کیا کہ اکیس اگست کا کیمیائی حملہ ممکنہ طور پر حزبِ اختلاف نے کیا تھا تاکہ ان کے طاقتور عالمی سرپرست مداخلت کریں۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ’شدت پسند ایک اور حملے کی تیاری کر رہے ہیں اس بار اسرائیل کے خلاف۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے‘۔

صدر پوتن نے امریکہ کے حوالے سے لکھا کہ ’یہ بہت خطرناک بات ہے کہ امریکہ کے لیے دوسرے ممالک کے اندورنی معاملات میں فوجی مداخلت ایک عام سی بات بنتی جا رہی ہے۔ کیا یہ امریکہ کے دور رس مفاد میں ہے؟ مجھے یقین نہیں ہے۔ لاکھوں افراد دنیا بھر میں اب امریکہ کو ایک جمہوریت کے نمونے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت تصور کرتے ہیں جو وحشیانہ طاقت پر انحصار کرتی ہے‘۔

بدھ کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں روس کے منصوبے پر بات چیت کے لیے نیویارک میں ملاقات کی جو ایک گھنٹے سے بھی کم وقت تک جاری رہی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوامِ متحدہ کے ایک سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ ’پینتالیس منٹ تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں پانچوں ممالک نے اپنا اپنا موقف بیان کیا مگر کوئی حقیقی بات چیت نہیں ہوئی‘۔

ایک سفارت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات چیت بہت حد تک علامتی تھی اور سنجیدہ سوالات جنیوا میں اٹھائے جائیں گے۔

رپبلکن سینیٹر جان مکین جو شام میں امریکی مداخلت کے حامی ہیں نے کہا کہ وہ جمعرات کو جنیوا میں ہوے والے مذاکرات کے بارے میں پر شکوک کا شکار ہیں۔

’میں واضح طور پر حیران ہوں کہ جان کیری کو جنیوا کیوں جانا پڑ رہا ہے لاورو سے بات چیت کے لیے؟ کیوں لاورو اقوامِ متحدہ نہیں آ جاتے اور سب ایک قرارداد پر متفق ہو جائیں اور اسے منظور کر لیں۔ یہ قرار داد سلامتی کونسل کے زریعے ہی منظور ہو سکتی ہے‘۔

سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی دنوں تک بحث چل سکتی ہے اس سے قبل کہ کوئی قرارداد ووٹ کے لیے پیش کی جائے۔

فرانس اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت قرارداد تیار کرنے پر پہلے ہی سے کام کر رہا ہے جو شام کی ناکامی کی صورت میں اس کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری جنیوا میں شام پر عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی سے بھی ملاقات کریں گے۔

جان کیری کے ساتھ ایک امریکی اسلحہ ماہرین کی ٹیم بھی جنیوا جا رہی ہے۔

اسی بارے میں