بنگلہ دیش: متاثرین کا معاوضہ طے نہیں ہو سکا

بنگلہ دیش
Image caption ان فیکٹریوں میں ہونے والے حادثے میں تقریباً بارہ سو مزدور ہلاک ہوئے تھے

بین الاقوامی ملبوسات ساز کمپنیاں اُن بنگلہ دیشی مزدوروں کو معاوضہ دینے کے معاملے پر متفق نہیں ہو سکیں جو گزشتہ سال ان کے لیے کام کرنے والی فیکٹریوں میں آگ لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے اس اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ایسی صرف دو کمپنیاں ہی آئیں۔

اطلاع ہے کہ صرف پرائم مارک نے معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ملبوسات بنانے والی ان فیکٹریوں میں ہونے والے حادثے میں تقریباً بارہ سو مزدور ہلاک ہوئے تھے۔

تجارتی یونینوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے لواحقین زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

جنیوا میں ان مذاکرات کا اہتمام ’گلوبل ٹریڈ یونین انڈسٹریل‘ نے کیا تھا اور انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن نے اس کی صدارت کی تھی۔

اس اجلاس کا مقصد اپریل میں رانا پلازہ میں ہونے والے حادثے کے متاثرین کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دلوانا تھا جہاں عمارت کے گرنے سے گیارہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ تزرین فیکٹری میں آگ لگنے سے 112 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اس اجلاس میں شامل نہ ہونے والی کمپنیوں میں ’وال مارٹ‘ اور ’بینٹن‘ ہیں۔ ان کے چیف ایگزیکیٹوز کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کمپنیاں اس لیے شامل نہیں ہوئیں کیونکہ ان مذاکرات کے بارے میں’ صورتِ حال واضح‘ نہیں کی گئی تھی۔

جبکہ بینٹن کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین کے لیے براہ راست کام کریں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وال مارٹ کا کہنا ہے کہ وہ ان فیکٹریوں میں تحفظ اور کام کرنے کے حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے تاہم معاوضے کے بارے میں کمپنی نے کچھ نہیں کہا۔

گلوبل ٹریڈ یونین انڈسٹریل رانا پلازہ کے متاثرین کے لیے تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ اور تزرین فیکٹری کے متاثرین کے لیے تقریباً 64 لاکھ پاؤنڈ کے معاوضے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں