لندن: ملزمہ کو عدالت میں نقاب پوش رہنے کی اجازت

برطانیہ میں مذہبی وجوہات کی بنا پر عدالت میں اپنا چہرہ ظاہر نہ کرنے والی خاتون کو عدالت نے دورانِ ابتدائی سماعت نقاب پوش رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

لندن کی 21 سالہ خاتون نے کسی بھی مرد کے سامنے اپنا نقاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔

جج پیٹر مرفی کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں انصاف کے تقاضے انتہائی اہم ہیں۔

یہ معاملہ پھر اس طرح حل کیا گیا کہ عدالت نے خاتون کی شناخت کی تصدیق کے لیے ایک خاتون پولیس اہل کار کا استعمال کیا۔ اس پولیس اہل کار نے اس سے پہلے اس خاتون کی تصویر کھینچی تھی۔

خاتون کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے خلاف گواہان کو ہراساں کرنے کا الزام ہے جس کے سلسلے میں انہوں نے خود کو بے گناہ ظاہر کیا ہے۔

ملزم کے الزامات سے انکار کرنے کے بعد عدالت میں نقاب کے بارے میں بحث شروع ہوئی۔

وکیلِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں فیصلہ ہر مقدمے میں علیحدہ کیا جانا چاہیے اور ججوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر شخص کو اپنے لباس کے ذریعے اپنے عقائد کے اظہار کا حق ہے۔

وکیلِ دفاع سوزن میک نے مزید کہا کہ اس کیس میں ملزم کے نقاب سے انصاف کو نقصان نہیں پہنچ رہا کیونکہ جیوری کو خاتون کی تصویر دی جا سکتی ہے۔

تاہم استغاثہ کا کہنا تھا کہ ان مقدمات میں جہاں گواہان کو ملزم کی شناخت کرنا ہوتی ہے، ان میں نقاب کا معاملہ مسئلہ بن سکتا ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ ’یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ ایک جج کوئی فیصلہ کرے اور دوسرا جج کوئی اور۔ کیا یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس سلسلے میں ایک ہی اصول بنایا جائے۔‘

جج کا کہنا تھا کہ کسی واضح پوزیشن کے بغیر کچھ مذاہب کو آزادی دی جا سکتی ہے۔

پیر کے روز عدالت فیصلہ کرے گی کہ مقدمے کے آغاز کے بعد اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے گا۔

دریں اثنا ایک جج نے اُس مسلمان خاتون کو عدالت میں نقاب پہننے کی اجازت دے دی ہے جنہوں نے عدالت میں گواہی کے دوران نقاب اتارنے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم جج کا کہنا تھا کہ شہادت دیتے وقت انھیں نقاب اتارنی ہوگی۔

اسی بارے میں