افغان خواتین پولیس

طالبان کے دور میں خواتین کے پولیس میں بھرتی پر پابندی لگا دی گئی تھی لیکن اس کے بعد حالات بدلے اور اب افغان پولیس فورس میں آپ کو خواتین نظر آتی ہیں مگر ان کی تعداد محض ایک فیصد ہی ہے۔

افغان حکومت کا ہدف پانچ ہزار خواتین کو پولیس میں بھرتی کرنے کا ہے مگر اس کا حصول ناممکن نظر آتا ہے۔

پری گُل سراج ایک افغان خاتون پولیس اہلکار ہیں، ان کے پاس ہتھیار ہے اور وہ وردی پہنتی ہیں اور شہر ایک انتہائی مصروف سڑک پر ڈیوٹی دیتی ہیں۔ ان کی تنخواہیں برطانوی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے آتی ہے۔

وہ کہتی ہیں ’روایتی طور پر افغانستان میں لوگ خواتین کا پولیس میں کام کرنا پسند نہیں کرتے اگر عورتیں پولیس میں کام نہیں کریں گی تو ان کے مسائل کون سلجھائےگا‘۔

پری گُل کا کام خواتین کی سکیورٹی دیکھنا ہے کیونکہ خودکش حملہ آور اکثر پکڑے جانے سے بچنے کے لیے خواتین کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اس بات کے بھی مثالیں موجود ہیں کہ جب الگ شناخت رکھنے والی خاتون پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی جیسا کہ اس سال جولائی کے مہینے میں ہلمند صوبے کی ایک سینیئر پولیس افسر اسلام بی بی کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

استحصال

کابل پولیس اکیڈمی میں نئی خواتین پولیس اہلکاروں کو تربیت دی جا رہی ہے لیکن حکومت اپنا ہدف حاصل کرنے کے ارد گرد بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ سرکاری قوت ارادی کی کمی، ناخواندگی اور پولیس کے محکمے میں مرد ساتھیوں کے جانب سے جنسی بدسلوکی کچھ ایسے اسباب ہیں جو خواتین کو پولیس کی نوکری کرنے سے روکتے ہیں۔

جنرل ایوب سالنگي حالیہ دنوں تک کابل پولیس کے سربراہ تھے جنہیں اب نائب وزیر داخلہ بنا دیا گیا ہے۔

ایوب پولیس پر لگنے والے الزامات پر اپنے ردعمل میں کہتے ہیں ’جہاں تک پولیس پر جنسی استحصال کے الزامات کا سوال ہے میں اسے رد کرتا ہوں۔ تاہم میں یہ ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ مسائل ہیں، ہمارے پاس عورتوں کو سہولیات دینے کے منصوبہ ہیں جو ان کی پولیس میں شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کریں گے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہم مستقبل میں سارے مسائل حل کر لیں گے لیکن اس میں وقت تو لگتا ہے۔ سب کچھ بہت جلدی ہوا ہے اور جنسی استحصال کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔‘

ایک خواتین کے دارلامان میں میری ملاقات ایک 15 سال کی لڑکی سے ہوئی۔ گھر سے بھاگی ہوئی یہ لڑکی پولیس کو سڑک پر گھومتے ہوئے ملی تھی۔

وہ کہتی ہیں ’پولیس نے مجھ سے کہا کہ میں صبح تک گاڑی کے اندر سو جاؤں۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ صبح میری ماں کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں پوری رات کار کے اندر روتی رہی۔ ایک پولیس اہلکار گاڑی کے اندر آ گیا اور میں اس سے ڈر گئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔‘

اس کے بعد اس پولیس اہلکار اور اس کے دو ساتھیوں نے اس لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ خواتین کے لئے کام کرنے والے ایک خیراتی ادارہ کی مداخلت کے بعد ہی ان تینوں پولیس اہلکاروں کو مجرم ٹھہرایا گیا اور اب وہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

باعثِ شرم

افغانستان میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے اونچے گراف کی وجہ سے بھی زیادہ خواتین پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہے تاکہ قوانین کو نافذ کرایا جا سکے۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام خواتین اہلکاروں کو فوری طور پر اہم ذمہ داریاں سونپ دی جائیں گی لیکن خواتین کے لئے مہم چلانے والی کارکن کہتی ہیں کہ انہیں نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔

الیزبتھ کیمرون خیراتی ادارے آکس فیم افغانستان میں پالیسی کی مشیر ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’افغان پولیس میں خواتین کو بہت نیچی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ ان کا واسطہ روزانہ مردوں سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر پولیس اسٹیشنوں میں خواتین کے لئے الگ سے سہولیات نہیں ہیں جبکہ عام خیال یہ ہے کہ خواتین کی وردی مختلف، کھانے اور اٹھنے بیٹھنے کی جگہ الگ ہونی چاہیے۔‘

پولیس اہلکار پری گُل سراج گھر میں اپنے چھ بچوں کے ساتھ کافی خوش ہیں۔ اگرچہ ان کے شوہر ہم سے بات کرنے سے کتراتے رہے کیونکہ وہ پری گُل کے پولیس کی نوکری کرنے پر شرمندگی سی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے رشتہ داروں نے تو پری گُل سے تبھی بولنا بند کر دیا تھا جب انہوں نے پولیس سروس میں قدم رکھا تھا۔

لیکن ڈیوٹی سے الگ پری گُل خود بہت ہی بےباکي سے اس بات کا جواب دیتی ہیں کہ کن وجوہات سے افغانستان میں عورتیں پولیس میں شامل نہیں ہوتیں۔ وہ کہتی ہیں ’پولیس میں ہونے کی وجہ سے مجھے اکثر آدھی رات کو فون آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگ باتیں بناتے ہیں۔ عورتوں کا دیر رات باہر جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ مجھے بہت برا لگتا ہے جب وہ میری بارے میں غلط باتیں کی جاتی ہیں۔‘

پولیس میں اصلاحات کی سست رفتار کافی مایوس کن ہے۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ اگلے سال جب افغانستان سے امریکہ کی قیادت والی افواج کی واپسی ہوگی تو مساوات کی سمت میں ہو رہی کوششیں بھی رک سی جائیں گی۔

اسی بارے میں