واشنگٹن:بحریہ کے اڈے میں فائرنگ،12 ہلاک

Image caption واشنگٹن میں امریکی بحریہ کے ایک ٹھکانے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ دارالحکومت واشنگٹن میں واقع نیوی یارڈ میں فائرنگ کر کے بارہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

امریکی بحریہ نے تصدیق کی ہے کہ پولیس اس عمارت میں ایک مسلح شخص کی تلاش کے لیے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بج کر بیس منٹ پر داخل ہوئی۔

ابتدائی طور پر پولیس چیف کیتھی لانیئر نے بتایا تھا کہ پولیس نے ایک مسلح حملہ آور کو ہلاک کر دیا ہے تاہم دیگر دو ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

اس کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ دو مشتبہ افراد میں سے ایک پر اب انہیں شک نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت تک حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تاہم ان کے پاس اسے دہشتگردی کا حملہ قرار دینے کے لیے کوئی وجہ نہیں ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے فائرنگ کے اس واقعے مذمت کی ہے۔

مقامی خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ایک پولیس افسر سمیت متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Image caption ایف بی آئی کے مطابق ہلاک ہونے والے حملہ آور ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے چونتیس سالہ ایرن ایلکسز اور وہ دو ہزار سات سے فوج کے ساتھ کام کر رہے تھے

امریکی بحریہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کے جنوب مشرق میں واقع نیوی سسٹمز کمانڈ ہیڈ کوارٹرز میں فائرنگ کی آواز سنی گئی۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعے کی ایک عینی شاہد پیٹریشیا وارڈ نے سات مرتبہ گولی چلنے کی آواز سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سب کچھ بہت تیزی سے ہوا، میں تو بھاگ کھڑی ہوئی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے امریکی بحریہ کے کمانڈر ٹم جیورس نے کہا کہ وہ عمارت کی چوتھی منزل پر تھے جب انہوں نے گولیوں کی آوازیں سنی۔

اس واقعے کے بعد امدادی اداروں کی درجنوں گاڑیاں عمارت کے گرد جمع ہوگئیں جبکہ ہیلی کاپٹروں نے علاقے کی نگرانی شروع کر دی۔

اس یارڈ میں تقریباً تین ہزار افراد کام کرتے ہیں۔

امریکی نیوی کے مطابق واشنگٹن نیوی یارڈ امریکی بحریہ کا سب سے پرانا ساحلی ٹھکانا ہے اور اسے پہلی بار 19 ویں صدی میں کھولا گیا تھا۔

اسی بارے میں