باغیوں نے کیمیائی حملہ کیا، شام کے پاس’شواہد‘

Image caption اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دمشق کے مضافات میں اکیس اگست کو ہونے والے حملے میں سارن گیس استعمال ہوئی

روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ کے مطابق شامی حکومت نے روس کو باغیوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق ’مادی شواہد‘ فراہم کیے ہیں۔

روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ سرگے رائبکوف نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق رپورٹ سیاسی اور یک طرفہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ معائنہ کاروں نے صرف 21 اگست کو ہونے والے حملے سے متعلق شواہد کو دیکھا اور اس سے پہلے ہونے والے تین حملوں کو نہیں دیکھا۔

نیویارک: شام پر قرارداد تنازعات کا شکار

’رپورٹ شامی حکومت کو ہی ذمہ دار ٹھہراتی ہے‘

’کیمیائی ہتھیاروں پر معاہدہ شام کی فتح ہے‘

دریں اثنا اقوام متحدہ کے چیف انسپکٹر ایکے سیلسٹورم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’شام کے تمام کیمیائی ہتھیاروں کو تلاش کرنا اور تلف کرنا بہت مشکل ہو گا لیکن ایسا ممکن ہے، بلاشبہ یہ ایک مشکل کام ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس کا زیادہ انحصار اس پر ہے کہ ’آیا شامی حکومت اور باغیوں بات چیت پر تیار ہوں گے‘۔

روس کے ڈپٹی وزیرِ خارجہ نے ایک مقامی خبر رساں ادارے آر ٹی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ شامی باغیوں کے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے جانے سے متعلق صدر بشارالاسد کی حکومت نے انھیں شواہد فراہم دیے ہیں۔

روسی اہلکار نے انٹرویو میں اس بارے میں نہیں بتایا کہ باغیوں نے کس قسم کے ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

’ہمیں ابھی ابھی شواہد فراہم کیے گئے ہیں اور اب ہم ان کا تجزیہ کر رہے ہیں۔‘

ڈپٹی وزیر خارجہ سرگے رائبکوف نےاقوام متحدہ کی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ یک طرفہ ہے اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

’جن معلومات کی بنیاد پر اسے مرتب کیا گیا وہ ناکافی ہیں۔ 21 اگست جیسے کسی بھی معاملے میں ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس سے پہلے اور بعد میں کیا ہوا۔‘

اس سے پہلے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کی ملاقات ہوئی جس میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں قرارداد پر غور کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد امریکہ اور روس کی جانب سے تیار کردہ منصوبے کا اہم حصہ ہے جس کے تحت شام ایک ہفتے میں اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تعداد ظاہر کرے گا اور 2014 کے وسط تک انہیں تلف کر دے گا۔

تاہم اس منصوبے کے لیے تیار کی جانے والی قرارداد میں الفاظ کے استعمال کے بارے میں چند اہم تنازعات باقی ہیں۔

Image caption روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کو کہا تھا کہ ماسکو کے پاس اس بات کے سنجیدہ شواہد موجود ہیں کہ یہ حملہ باغی فوجیوں نے کیا ہے

فرانس، امریکہ اور برطانیہ ایک ایسی قرارداد تیار کرنا چاہتے ہیں جس میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی موجود ہو جب کہ روس اس کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکہ اور روس نے یہ منصوبہ اس وقت تیار کیا تھا جب 21 اگست کو شامی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد امریکہ کی طرف سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان بہت بڑھ گیا تھا۔

پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ شام میں ممنوع کیمیائی ہتھیار سیرن گیس کا استعمال کیا گیا ہے تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ گیس کس نے استعمال کی۔

فرانس، برطانیہ اور امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ان کے موقف کی تائید کرتی ہے کیونکہ ایسے ہتھیار صرف حکومتیں ہی استعمال کر سکتی ہیں۔

شام کے صدر بشارالاسد کا بھی یہی کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال باغی فوجیوں نے کیا ہے۔

اسی بارے میں