ٹونی ایبٹ آسٹریلیا کے نئے وزیر اعظم

Image caption حزبِ اختلاف کے رہنما ٹونی ایبٹ (دائیں) اور وزیرِ اعظم کیون رڈ برزبین میں

آسٹریلیا میں نو منتخب لبرل نیشنل اتحاد کے رہنما ٹونی ایبٹ نے دارالحکومت کینبیرا میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

ٹونی ایبٹ کی سربراہی میں لبرل نیشنل اتحاد نے چند روز قبل ہی سابق حکمران جماعت لیبر کے چھ سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔

55 سالہ ٹونی ایبٹ نے دارالحکومت کینبیرا کے گورنمنٹ ہاؤس میں آسٹریلیا کی گورنر جنرل کوئنٹن برائس کی موجودگی میں اپنے عہدے کا حلف لیا اور کہا کہ وہ روزِ اول سے ہی کام شروع کر دیں گے۔

ان کے قدامت پسند اتحاد کے پاس ایوانِ زیریں میں اکثریت ہے۔

ٹونی ایبٹ نے کہا کہ ’آج کا دن محض رسمی دن نہیں ہے بلکہ یہ کام کا دن ہے۔ جیسے ہی میں اس تقریب سے واپس پارلیمنٹ ہاؤس پہنچوں گا، وزیر اعظم اور کابینہ کے دفتر کو حکم دوں گا کہ وہ کاربن ٹیکس کی تنسیخ کے لیے قانونی مسودے کی تیاری شروع کر دیں۔‘

ٹونی ایبٹ نے اپنی 19 رکنی کابینہ کا اعلان پہلے سے ہی کر دیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے ’یہ کابینہ تاریخ کی سب سے تجربہ کار کابینہ ہے۔‘

تاہم ان کی جانب سے کابینہ کے انتخاب پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس میں صرف ایک خاتون جولی بشپ شامل ہیں جو وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گی۔

کابینہ کے اراکین بھی بدھ کو ہی اپنے عہدے کا حلف ایک علیٰحدہ تقریب میں لیں گے۔

اس کے علاوہ ٹونی ایبٹ نے کہا کہ ان کی حکومت ’بجٹ میں اضافہ واپس لائے گی اور انڈونیشیا کے راستے آسٹریلیا آنے والی تمام کشتیوں کو واپس بھجوا دی گی جن پر سیاسی پناہ کے خواہشمند افراد آسٹریلیا آتے ہیں۔

مگر اب تک کچھ ووٹوں کی گنتی باقی ہے اور لگتا ہے کہ ٹونی ایبٹ کے اتحاد کے پاس شاید ایوانِ بالا یعنی سینٹ میں اکثریت نہ رہے جس سے انھیں قوانین کی منظوری میں دشواری پیش آئے گی۔

دوسری جانب لیبر جماعت اپنے نئے سربراہ کے انتخاب کے عمل سے گزر رہی ہے جس میں سابق نائب وزیراعظم انتھونی ایلبنیز اور اہم رکن بل شورٹن اہم رہنماؤں کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کیون رڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے رہنما کے لیے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ عوام نیا آغاز چاہتے ہیں تاہم کیون رڈ برزبین کے حلقے گریفن سے اپنی نشست پر منتخب ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں