نام ’مسیح‘ رکھنے کی اجازت ہے: امریکی عدالت

Image caption میجسٹریٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ سات ماہ کے مسیح ڈسون مارٹن کا نام تبدیل کر کے مارٹن کر دیا جائے

امریکی ریاست ٹینسسی میں عدالت نے ایک بچے کا نام ’مسیح‘ رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے پہلے اگست میں ایک ذیلی عدالت نے یہ نام رکھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

بدھ کے روز کاک کاؤنٹی کے چانسلر ٹلفرڈ فورگیٹی نے فیصلہ سنایا کہ ذیلی میجسٹریٹ نے یہ نام رکھنے کی اجازت نہ دے کی آئین کی خلاف ورزی کی تھی۔

میجسٹریٹ نے حکم جاری کیا تھا کہ سات ماہ کے مسیح دشون مارٹن کا نام تبدیل کر کے مارٹن کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یسوع مسیح ہی اصل مسیح ہیں اور اس نام سے لوگ ناراض ہو سکتے ہیں۔

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں سات سو بچوں کا نام مسیح رکھا گیا ہے۔

عیسائی مذہب میں یسوع مسیح کو مسیح مانا جاتا ہے جبکہ یہودی اپنے آنے والے پیشوا کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں۔

لغت کے مطابق اس لفظ کا مطلب بچانے والے کے ہوتے ہیں۔

مسیح مارٹن کے والدین عدالت میں ایک اور مسئلہ لے کر گئے تھے۔ ان کے بیچ تنازع یہ تھا کہ ان کا بیٹا کس کا خاندانی نام اپنائے گا۔ مگر نام مکمل طور پر تبدیل کرنے کے عدالتی حکم سے وہ حیران رہ گئے۔

Image caption مسیح مارٹن کے والدین کے بیچ تنازع یہ تھا کہ ان کا بیٹا کس کا خاندانی نام اپنائے گا

میجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ اس نام سے بچے پر ایسا بوجھ پڑے گا جو کہ وہ بطور ایک انسان اٹھا نہیں سکے گا۔

ریاست وسکانسن کی تنظیم فریڈم فروم ریلیجن نے میجسٹریٹ کے خلاف شکایت کی تھی۔

بدھ کے روز چانسلر ٹلفرڈ فورگیٹی نے فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ جب بچے کے والدین کو اس پر اعتراض نہیں تو بچے کا نام تبدیل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔

انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا میجسٹریٹ کا فیصلہ امریکی آئین میں حکومت اور دین کے درمیان علیحدگی کی ضمانت کی بھی خلاف ورزی ہے۔

خاندانی نام کے حوالے سے انہوں نے بچے کے نام کے ساتھ باپ کا نام لگانے کا حکم دیا۔

اسی بارے میں