جے پی مورگن بینک پر بانوے کروڑ ڈالر جرمانہ

Image caption اس معاہدے کے تحت جے پی مورگن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹیز کے امریکی وفاقی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی

امریکی بینک جے پی مورگن نے چھ اعشاریہ دو ارب ڈالر کا نقصان کرنے والے ’لندن ویلز‘ نامی سکینڈل کے پیشِ نظر چار حکومتی اداروں کو بانوے کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مالیاتی سیکٹر میں لگائے جانے والے جرمانوں میں یہ امریکہ کا تیسرا بڑا اور برطانیہ کا دوسرا بڑا جرمانہ ہے۔

ایچ ایس بی سی پر 190 کروڑ ڈالر جرمانہ

اس معاہدے کے تحت جے پی مورگن نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹیز کے امریکی وفاقی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔

اس سال کے آغاز میں جے پی مورگن کے لندن میں ملازمین نے ڈریوٹووز کے لین دین میں بہت نقصان دے سودے کیے تھے۔

اس کیس کے حوالے سے جے پی مورگن کے دو سابق ملازمین کو امریکہ میں مجرمانہ مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ دونوں ملزمان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نقصانات کے بارے میں غلط بیانی کی تھی۔

امریکہ میں مالیاتی سیکٹر کے نگران ادارے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جے پی مورگن میں اندرونی طور پر اور اعلیٰ عہدے داروں کی سطح پر غلطیاں کی گئیں۔

ادارے کا کہنا تھا کہ جے پی مورگن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایس ای سی کے لگائے گئے الزامات میں صداقت ہے۔

جے پی مورگن کے چیف ایگزیکٹیو جیمی ڈمن نے ماضی میں ان بےضابطگیوں کو بہت چھوٹا سا مسئلہ قرار دیا تھا۔

ایس ای سی کے ایک شریک ڈائریکٹر جارج کنیلوس نے کہا کہ ’جے پی مورگن اپنے ملازمین کی نگرانی کرنے میں ناکام رہی اور اس کے ملازمین نے اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے دیگر اثاثوں کی قیمت حقیقی قیمت سے زیادہ بتائی۔‘

جے پی مورگن دنیا کے سب سے بڑے بینکوں میں سے ایک ہے۔

92 کروڑ ڈالر کے اس جرمانے کا کچھ حصہ امریکی حکومت اور کچھ برطانوی حکام کو دیا جائے گا۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس تفتیش سے ظاہر ہوا ہے کہ جے پی مورگن نے تمام سطحوں پر نااہلی کا ثبوت دیا۔

برطانیہ میں مالیاتی اداروں کی نگرانی کے ادارے ایف سی اے کی ٹریسی مک ڈرمٹ نے کہا کہ ان غلطیوں کی وجہ سے صارفین کا برطانوی مالیاتی مارکیٹ پر اعتماد کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ’ایک بار پھر یہ کمپنی اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ اس کا پوری مارکیٹ پر کتنا اثر پڑتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’سینیئر اہلکار مسئلے کو نظر انداز کرتے رہے۔ اور جب مسئلہ بڑھنے لگا تو کمپنی نے جلد اس کی نوعیت سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ حالات اس سے اور زیادہ خراب ہوئے کہ جے پی مورگن نے ہمارے ساتھ تعاون کرنے سے بھی انکار کیا۔‘

’لندن ویل‘ جے پی مورگن کے برونو اکسل نامی ملازم کو کہتے ہیں جس نے کئی نقصان دہ سودے کیے مگر اب وہ دیگر تاجروں کے خلاف گواہی دینے کے لیے حکام کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

2012 میں ان نقصان دہ سودوں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بینک میں سرمایہ کاری کی سربراہ اینا ڈروو نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

اسی بارے میں