نائجیریا: بوکوحرام کا حملہ، 90 ہلاک

Image caption بوکو حرام نائیجیریا میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور ملک میں سنہ دو ہزار نو سے حملے کر رہی ہے

افریقی ملک نائجیریا کے شمال مشرقی صوبے بورنو کے حکام کے مطابق بوکو حرام کے جنگجوؤں کے حملوں میں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجی یونیفارم میں ملبوس شدت پسندوں نے بنشیک قصبے کے باہر چوکیاں بنائیں اور قصبے سے بھاگنے والوں کو گولیاں بھی ماریں۔

بوکوحرام کے سربراہ ’ہلاک‘ کر دیے گئے

منگل کے روز ہونے والے حملے میں انھوں نے درجنوں عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

بوکو حرام نائجیریا میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور 2009 سے حملے کر رہی ہے۔

بورنو صوبے سے رابطے مئی کے مہینے سے معطل ہیں اور بورنو کے ساتھ ساتھ دیگر دو صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کی جا چکی ہے۔ تاہم فوجی تعیناتی کے باوجود گذشتہ کچھ عرصے میں حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر مسلح گروہ تیار کیے گئے ہیں تاہم ان رضا کاروں کی بڑی تعداد گذشتہ چند ہفتوں میں ہلاک ہوگئی ہے۔

بورنو صوبے کے گورنر قاشم شتیما نے جمعرات کو حالیہ حملوں کی زد میں آنے والے علاقوں کا دورہ کیا اور قتلِ عام کو ’وحشیانہ اور غیر اسلامی‘ قرار دیا۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے لیے بوکو حرام کے جنگجو بیس پک اپ ٹرکوں پر سوار ہو کر آئے تھے اور وہ بھاری اسلحے سے لیس تھے جن میں طیارہ شکن توپیں بھی شامل تھیں۔

بنشیک قصبے میں اس ماہ کے آغاز پر بوکو حرام اور حکومتی رضاکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جن میں پانچ عسکریت پسند اور تیرہ رضاکار ہلاک ہوگئے تھے۔

بنشیک قصبہ صوبائی دارالحکومت مادوگری سے ستر کلومیٹر مغرب میں ہے۔ 2002 میں مادوگری میں ہی بوکو حرام کا قیام عمل میں آیا تھا۔

گذشتہ ماہ نائجیریا کی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ بوکوحرام کے سربراہ اور اسلامی شدت پسند رہنما ابوبکر شیکاو ممکنہ طور پر سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیکاو یا باما کی ہلاکت کی غیرجانب دارانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں بھی شیکاو کے مرنے کی خبر آئی تھی لیکن وہ بعد میں غلط ثابت ہوئی۔

2009 میں بوکوحرام کی بغاوت شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بوکو حرام رضا کار محافظوں سے بدلہ لے رہی ہے جس سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ رضاکار مسلح گروہ بنانے کی پالیسی سے تشدد میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں