’شام میں اب کوئی فریق جیت نہیں سکتا‘

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام کے نائب وزیرِاعظم قادری جمیل کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں کوئی بھی فریق اتنا طاقتور نہیں ہے کہ دوسرے کو شکست دے سکے۔

انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا میں مجوزہ مذاکرات میں شامی حکومت بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں جنگ بندی کی حمایت کرے گی۔

’کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے لیے ایک سال چاہیے‘

باغیوں نے کیمیائی حملہ کیا، شام کے پاس’شواہد‘

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ شام میں حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

شامی نائب وزیراعظم نے برطانوی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی معیشت کو دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی اس خانہ جنگی کی وجہ سے تباہ کن نقصان ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد یا ملک چھوڑ گئے ہیں یا پھر بے گھر ہو گئے ہیں۔

قادری جمیل نے کہا کہ اس وقت یہ حکومت اور نہ ہی باغی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اپنے مخالف کو شکست دے سکیں۔ انہوں نے کہا ’یہ برابری کچھ عرصے تک تبدیل نہیں ہوگی۔‘

قادری جمیل کا اصرار تھا کہ وہ حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنیوا میں مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کا ملک حکومت دوست یا پھر غیر جانبدار ممالک کی افواج کی نگرانی میں جنگ بندی کی پیشکش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے بیرونی مداخلت سے پاک پرامن سیاسی عمل کی راہ ہموار ہوگی۔

قادری جمیل کا کہنا تھا کہ کسی کو اس بات کا خوف نہیں ہونا چاہیے کہ یہ حکومت اپنی موجودہ حالت میں جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ عملی طور پر سابق طرزِ حکومت ختم ہو چکا ہے۔ ’اپنی ترقی پسند اصلاحات کو عملی جامع پہنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مغربی ممالک اور شام میں ملوث دیگر طاقتیں ہمارے پیچھے مت پڑیں۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شامی باغی قادری جمیل کے اس بیان کو مسترد کر دیں گے کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے اصلاحات کے عمل کی پیشکش پر اعتبار نہیں ہے۔

دریں اثنا شام کے حامی ملک ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک دیگر اقوام کے ساتھ ’تعمیری تعلق‘ کی اپنی پالیسی کے تحت شام میں قیامِ امن کے لیے سمجھوتے میں مدد دینے کو تیار ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اپنے ایک مضمون میں ایرانی صدر نے لکھا ہے کہ ’ہمیں لازماً ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں اس خطے کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ اس لیے میں شام میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان بات چیت ممکن بنانے کے لیے اپنی حکومت کی آمادگی کا اعلان کرتا ہوں۔‘

Image caption شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے منصوبے پر عمل کے لیے تیار ہیں

شام کے ایک اور حامی ملک روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروو بھی اس وقت دمشق میں ہیں جہاں وہ قیام ِ امن کے لیے مختلف فریقوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ادھر امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ جلد شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے کا حل نکالے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے اپنے اجلاس میں شام کو پابند کرنے والی قرارداد منظور کرے۔

روس اور امریکہ کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر اتفاقِ رائے کے بعد امن کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے۔ گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر روس اور امریکہ نے مل کر شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔

مغربی ممالک کا موقف ہے کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ میں جو قراردار پیش کی جائے اس میں فوجی کارروائی کا راستہ بھی رکھا جائے تاہم روس اس دھمکی کی مخالفت کرتا ہے۔

روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نہیں بلکہ باغی افواج نے کیا تھا۔

شام کے صدر بشارالاسد نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے منصوبے پر عمل کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے ایک سال کا عرصہ درکار ہے۔

اسی بارے میں