امریکہ: سعودی شہزادی کے خلاف مقدمہ ختم

Image caption اطلاعات کے مطابق شہزادی مشعل العبان سعودی سفارت خانے کی جانب سے ادا کی گئی پچاس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر ہیں

امریکہ میں ایک سعودی شہزادی کے خلاف انسانی سمگلنگ کے الزامات ختم کر دیے گئے ہیں۔

یہ الزامات ان پر اس وقت لگائے گئے تھے جب کینیا سے تعلق رکھنے والی ایک ملازمہ نے کہا تھا کہ اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا تھا اور اسے انتہائی کم اجرت پر کام کرنا پڑ رہا تھا۔

جمعہ کو امریکی ریاست کیلیفورنیا میں استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ بیالیس سالہ شہزادی مشعل العبان کے خلاف الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکے اسی لیے وہ مقدمہ خارج کر رہے ہیں۔

شہزادی مشعل العبان کے وکلا کا کہنا تھا کہ ملازمہ کا دعویٰ امریکہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے کے لیے ایک چال تھی۔

لگائے گئے الزامات کے تحت شہزادی کو بارہ سال قید تک کی سزا ہو سکتی تھی۔

جمعہ کو عدالتی کارروائی کا مقصد اس بات کا تعین کرنا تھا کہ کیا شہزادی کے خلاف لگائے گئے الزامات قابلِ سماعت ہیں یا نہیں۔

اورنج کاؤنٹی کے ضلعی اٹارنی ٹونی راکاؤکس نے عدالت کو بتایا کہ شہزادی کے خلاف الزامات کی حمایت میں شواہد نہیں مل سکے اسی لیے استغاثہ کی درخواست ہے کہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق شہزادی مشعل العبان سعودی شاہی خاندان کے ایک رکن کی چھٹی بیوی ہیں اور سعودی سفارت خانے کی جانب سے ادا کی گئی پچاس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر ہیں۔

کینیا سے تعلق رکھنے والی مدعی ملازمہ جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، دعویٰ کر رہی تھی کہ انہیں ایک دن میں سولہ گھنٹوں تک کام کروایا جاتا تھا اور طے کی گئی اجرت سے کم تنخواہ دی جا رہی تھی۔

ملازمہ نے گذشتہ سال ایک ملازمتی ایجنسی کے ذریعے سعودی عرب میں شہزادی العبان کے پاس کام کرنا شروع کیا تھا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ملازمت کے ابتدائی معاہدے کے تحت ان سے ہفتے میں پانچ روز، روزانہ آٹھ گھنٹے کام لیا جانا تھا اور ان کی تنخواہ سولہ سو امریکی ڈالر ماہانہ ہونا تھی۔

حکام نے بتایا کہ ان شرائط کے برعکس ملازمہ کو ماہانہ دو سو بیس ڈالر دیے گئے اور ان سے ایک دن میں سولہ گھنٹے تک کام لیا جاتا رہا۔

تیس سالہ ملازمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب وہ سعودی عرب پہنچیں تو ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور صرف امریکہ سفر کرنے لیے ہی انہیں واپس کیا گیا۔

ملازمہ کا دعویٰ ہے کہ کیلیفورنیا پہنچنے کے بعد ان سے چار مکانوں میں آٹھ لوگوں کے لیے کام کروائے گئے اور انہیں قید میں رکھا گیا۔

فرار ہونے کے بعد وہ ایک بس پر سوار ہوئیں اور پولیس کے پاس پہنچ گئیں۔

جولائی کے مہینے میں جب شہزادی العبان کو گرفتار کیا گیا تو ضلعی اٹارنی نے اس معاملے کو ’جبری ملازمت‘ کی مثال کہا تھا۔

اسی بارے میں