’کوئی فریق جیت نہیں سکتا‘، ایران کی ثالثی کی پیشکش

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام میں حکومت مخالف ’فری سیریئن آرمی‘ اور القاعدہ سے منسلک ’عراق اور شام میں اسلامی ریاست‘ نامی تنظیم نے قصبے اعزاز میں آپس میں جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب شام کے نائب وزیرِاعظم قادری جمیل کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں کوئی بھی فریق اتنا طاقتور نہیں ہے کہ دوسرے کو شکست دے سکے۔

’کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کے لیے ایک سال چاہیے‘

باغیوں نے کیمیائی حملہ کیا، شام کے پاس’شواہد‘

القاعدہ سے منسلک تنظیم نے بدھ کو فری سیریئن آرمی سے لڑائی کے بعد اعزاز کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔

دونوں گروہوں کے درمیان لڑائی کے باعث یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں شام میں حکومت کے خلاف لڑائی میں شریک گروہوں کے درمیان بھی لڑائی شدت اختیار نہ کر جائے۔

شام اور ترکی کی سرحد پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار پال وُڈ کا کہنا ہے کہ دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے قیدیوں اور سامان کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

تاہم ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ جنگ بندی صرف اعزاز تک ہی محدود ہے یا دونوں گروہوں میں ملک کے دیگر علاقوں میں جاری لڑائی پر بھی لاگو ہو گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک فری سیریئن آرمی کو اس صورت میں مسلح کریں گے اگر وہ القاعدہ سے منسلک تنظیم سے روابط نہ رکھے۔

کوئی فریق جیت نہیں سکتا

Image caption ایران نے کہا ہے کہ وہ شام میں حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے

شام کے نائب وزیرِاعظم قادری جمیل کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی ایک ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں کوئی بھی فریق اتنا طاقتور نہیں ہے کہ دوسرے کو شکست دے سکے۔

انہوں نے برطانوی اخبار گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنیوا میں مجوزہ مذاکرات میں شامی حکومت بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں جنگ بندی کی حمایت کرے گی۔

دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ شام میں حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

شامی نائب وزیراعظم نے برطانوی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی معیشت کو دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی اس خانہ جنگی کی وجہ سے تباہ کن نقصان ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد یا ملک چھوڑ گئے ہیں یا پھر بے گھر ہو گئے ہیں۔

قادری جمیل نے کہا کہ اس وقت حکومت اور نہ ہی باغی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اپنے مخالف کو شکست دے سکیں۔ انہوں نے کہا ’یہ برابری کچھ عرصے تک تبدیل نہیں ہوگی۔‘

قادری جمیل کا اصرار تھا کہ وہ حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنیوا میں مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کا ملک حکومت دوست یا پھر غیر جانبدار ممالک کی افواج کی نگرانی میں جنگ بندی کی پیشکش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے بیرونی مداخلت سے پاک پرامن سیاسی عمل کی راہ ہموار ہوگی۔

قادری جمیل کا کہنا تھا کہ کسی کو اس بات کا خوف نہیں ہونا چاہیے کہ یہ حکومت اپنی موجودہ حالت میں جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ عملی طور پر سابق طرزِ حکومت ختم ہو چکا ہے۔ ’اپنی ترقی پسند اصلاحات کو عملی جامع پہنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مغربی ممالک اور شام میں ملوث دیگر طاقتیں ہمارے پیچھے مت پڑیں۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شامی باغی قادری جمیل کے اس بیان کو مسترد کر دیں گے کیونکہ انہیں حکومت کی جانب سے اصلاحات کے عمل کی پیشکش پر اعتبار نہیں ہے۔

دریں اثنا شام کے حامی ملک ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک دیگر اقوام کے ساتھ ’تعمیری تعلق‘ کی اپنی پالیسی کے تحت شام میں قیامِ امن کے لیے سمجھوتے میں مدد دینے کو تیار ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اپنے ایک مضمون میں ایرانی صدر نے لکھا ہے کہ ’ہمیں لازماً ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں اس خطے کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ اس لیے میں شام میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان بات چیت ممکن بنانے کے لیے اپنی حکومت کی آمادگی کا اعلان کرتا ہوں۔‘

اسی بارے میں