یمن: شدت پسندوں کے حملے، 40 فوجی ہلاک

Image caption یمن کی حکومت جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نامی گروپ کی سرکوبی کی کوششیں کر رہی ہے

مشرقِ وسطیٰ کے ملک یمن میں فوج پر مشتبہ شدت پسندوں کے دو سلسلہ وار حملوں میں کم از کم 40 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کا پہلا واقعہ ملک کے جنوب میں واقع ایک فوجی اڈے پر پیش آیا۔

شبوا نامی صوبے میں قائم اس اڈے پر فوجیوں کو دو کار بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں کم از کم تیس فوجی مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پہلا بم اس وقت پھٹا جب فوجی کیمپ میں داخلے کے لیے آنے والی ایک کار کے گرد جمع تھے۔

اطلاعات کے مطابق دوسرا دھماکہ کیمپ کے اندر ہی ہوا۔

اس کے علاوہ جنوبی یمن ہی میں معفہ نامی قصبے میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دس فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔

مقامی ذرائع نے ان حملوں کے لیے ’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ‘ نامی شدت پسند گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو ماضی میں بھی فوج کو نشانہ بناتا رہا ہے۔

’جزیرہ نما عرب میں القاعدہ‘ کا قیام 2009 میں یمن اور سعودی عرب میں القاعدہ کے گروہوں کے ادغام کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

امریکہ کی جانب سے اس گروپ کو شدت پسند تنظیم القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے اور یمن کی حکومت اس گروپ کی سرکوبی کی کوششیں کر رہی ہے۔

اسی بارے میں