نیروبی: محاصرے کا خاتمہ آخری مراحل میں

Image caption کینیا کی فوج کے جوانوں کی بڑی تعداد شاپنگ سنٹر کے اندر اور اردگرد موجود ہے

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد اس کی حتمی چیکنگ کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں نیروبی شہر کے اس شاپنگ سینٹر میں تین دن سے جاری محاصرے کا خاتمہ آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔

اس سے قبل شاپنگ سینٹر کے اندر سے دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جب فوجیوں نے شاپنگ سینٹر پر دھاوا بول دیا تھا۔

کینیا کی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ تین ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا اور فرار کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

الشباب کیا ہے؟ سوال و جواب

نیروبی کا شاپنگ سنٹر بنا الشباب کا نشانہ: تصاویر

شاپنگ سینٹر کی عمارت سے شعلے اور دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔

کے ڈی ایف یعنی کینین ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں نے توجہ ہٹانے کے لیے آگ لگائی ہے‘ اور یہ کہ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کام کر رہی ہے۔

ہفتے کو شروع ہونے والی اس کارروائی میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق باسٹھ افراد ہلاک اور ایک سو ستر زخمی ہو گئے ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔

Image caption اتوار کو اس واقعے میں ہلاک ہونے والے مزید نو افراد کی لاشیں ملیں

برطانوی وزیرِ دفاع فلپ ہمونڈ نے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق اس واقعے میں چھ برطانوی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

صومالی شدت پسند گروپ الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور گروپ کے ایک سینیئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کینیائی افواج کی صومالیہ میں موجودگی کا بدلہ ہے۔

کینیا کی وزارتِ داخلہ کے جوزف اولی لینکو نے بتایا کہ ’کچھ دہشت گرد بعض دکانوں میں دوڑ کر چھپ رہے ہیں مگر شاپنگ سینٹر کی تمام منزلیں ہمارے قبضے میں ہیں۔ ان کے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے‘۔

اولی لینکو نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو شروع ہونے والی حتمی کارروائی ساری رات جاری رہے گی مگر انہوں نے زور دیا کہ یہ اپنے آخری مراحل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت حد تک ناممکن ہے کہ شاپنگ سینٹر میں اب کوئی یرغمالی باقی رہے ہیں‘۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ کینیا کی حکومت کو اپنی مکمل مدد فراہم کر رہے ہیں۔

کینیا افریقہ میں امریکہ کی امداد حاصل کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔

خیال ہے کہ اب بھی صومالی شدت پسند تنظیم الشباب سے تعلق رکھنے والے دس سے پندرہ حملہ آور متاثرہ عمارت میں موجود ہیں۔ الشباب نے اس کے علاوہ 36 یرغمالوں کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

کینیا کے صدر اوہارو کینیاتا نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’مجرم اب عمارت کے ایک حصے میں موجود ہیں۔ اب جب کہ ماہرین جائے وقوعہ پر ہیں تو ہمارے پاس ان پر قابو پانے کا اتنا ہی اچھا موقع ہے جتنی ہم امید کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اس مشکل وقت میں متحد ہے: ’ کینیا مختلف نسلوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا ملک ہے اور اس کا یہ تنوع ہی اس کی مضبوطی ہے۔‘

صدر کینیاتا نے حملہ آوروں کو بزدل مجرم قرار دیا اور کہا کہ انہیں اور ان کے قائدین کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے گا۔

صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کا بھتیجا اور اس کی منگیتر بھی اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے بھی اپنے تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اب تک اس واقعے میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، چین، گھانا، ہالینڈ، جنوبی افریقہ، بھارت، آسٹریلیا اور کینیڈا کے شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

کینیا کے ایک وزیر کے مطابق کم از کم ایک ہزار افراد الشباب کے حملے کے بعد شاپنگ سنٹر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور اب ایک سپر مارکیٹ میں محصور ہیں۔ کینیائی صدر کے مطابق غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں میں خواتین بھی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق انھیں ذرائع نے خبر دی ہے کہ حملہ آوروں میں سے کم از کم ایک خاتون ہے جو بظاہر اس گروپ کی قیادت کر رہی ہے۔

الشباب صومالیہ میں کینیا کی طرف سے اپنی فوج بھیجنے کی مخالفت کرتی ہے۔ اس وقت صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کینیا کے 4000 فوجی موجود ہیں جہاں وہ 2011 سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

الشباب نے کچھ دن پہلے اس شاپنگ سنٹر پر حملے کی دھمکی بھی دی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ کینیا میں 1998 میں امریکی سفارتخانے پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد اب تک کا بدترین حملہ ہے۔

اسی بارے میں