عمران فاروق قتل:لوگوں کا پولیس سے ’بھرپور تعاون‘

لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تیسری برسی کے موقع پر میٹروپولیٹن پولیس کی طرف سے جاری کردہ عوام سے تعاون کی اپیل کا بھرپور جواب موصول ہو رہا ہے۔

لندن پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاورق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے اس قتل کو ہوئے تین سال مکمل ہونے پر عوام سے تعاون کی اپیل کی تھی۔

لندن پولیس کہ اہلکار نے کہا کہ پولیس عوام کے درِ عمل سے بہت مطمئن ہے۔

’آزادانہ سیاسی کیریئر تحقیقات کا محور ہے‘

’ڈاکٹر فاروق آزادانہ سیاست میں آنے کی کوشش کر رہے تھے‘

اس اپیل کے رد عمل کے طور پر لندن پولیس کو اب تک کتنے لوگوں نے رابطہ کیا ہے اس کی تفصیلات مذکورہ اہلکار نے بتانے سے انکار کیا۔

لندن پولیس نے اس قتل کے بارے میں شواہد یا ثبوت فراہم کرنے پر بیس ہزار پونڈ دینے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔

دریں اثناء اس قتل کے سلسلے میں جس باون سالہ شخص کو جون میں لندن کے ہیتھرؤ ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا لیکن بعد اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا اس کی ضمانت میں توسیع کر دی گئی ہے۔

ابتدائی طور اس شخص کو ستمبر تک کی ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

لندن پولیس کے اہلکار نے بتایا کہ اس کی ضمانت کی مدت کو اب دسمبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔

پولیس نے اس شخص کا نام اور اس کی شہریت ظاہر کرنے سے انکار کیا۔

اسی بارے میں