باغی گروہ قومی اتحاد کو تسلیم کرنے سے انکاری

Image caption یہ بیان باغیوں میں النصرہ فرنٹ کے بااثر ہونے کا مظہر ہے: بی بی سی نامہ نگار

شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جدوجہد میں مصروف باغیوں میں سے گیارہ گروہوں نے اپوزیشن کے شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

شامی قومی اتحاد کو جلاوطنی میں شام کی عبوری حکومت قرار دیا جاتا ہے۔ استنبول سے کام کرنے والے اس اتحاد کا قیام نومبر 2012 میں عمل میں آیا تھا اور دنیا کے سو سے زیادہ ممالک اسے شامی اپوزیشن کا جائز نمائندہ تسلیم کرتے ہیں۔

کوئی فریق جیت نہیں سکتا، ایران کی ثالثی کی پیشکش

ایک مشترکہ بیان میں ان باغی گروہوں کا کہنا ہے کہ حزب ِاختلاف کا کوئی بھی ایسا گروپ جو شام میں موجود نہیں اور لڑائی میں شریک باغیوں سے رابطے نہیں کرتا، ان کی نمائندگی بھی نہیں کر سکتا۔

بیان کے مطابق ’چونکہ قومی اتحاد اور عبوری حکومت اس کی نمائندہ نہیں اس لیے اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔‘

منگل کو جاری کیے گئے اس ویڈیو بیان میں اپوزیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ ’اسلامی ڈھانچے‘ کے تحت متحد ہو جائے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ ’ہم اپوزیشن پر زور دیتے ہیں کہ وہ تقسیم کو رد کریں اور امت کے مقاصد کو ہر گروپ کے انفرادی مقاصد پر ترجیح دیں۔‘

شامی قومی اتحاد کو تسلیم نہ کرنے والے گروپوں میں فری سیریئن آرمی کے ارکان کے علاوہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والا النصرہ فرنٹ بھی شامل ہے۔

شام میں جاری تنازعے میں اسلامی باغی قوتیں اہم مقام حاصل کرتی جا رہی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان قوتوں کے پاس ہزاروں جنگجو موجود ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ بیان باغیوں میں النصرہ فرنٹ کے بااثر ہونے کا مظہر ہے جو کہ ان مغربی قوتوں کے لیے مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے جو شامی اپوزیشن کی حمایت کرتی ہیں۔

Image caption امریکہ النصرہ فرنٹ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

امریکہ النصرہ فرنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے ذریعے شام میں کیمیائی ہتھیار کے استعمال کی تصدیق کے بعد اب ویب سائٹوں کی جانب سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان ہتھیاروں کا استعمال کس نے کیا تھا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا خیال ہے کہ کیمیائی ہتھیار کے معائنہ کاروں کی جانچ میں یہ بات ’مکمل تواتر‘ کے ساتھ آ رہی ہے کہ اس کے لیے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت ذمہ دار ہے۔

تاہم یو ٹیوب اور لائیو لیک جیسی ویب سائٹوں پر اس ہفتے اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز میں شامی حکومت کے مخالف گروہوں کو 21 اگست کو دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں حملہ کرتے ہوئے دکھایا گيا ہے۔

اسی بارے میں