عراق: فرقہ وارانہ تشدد کی لہر، 21 ہلاک

Image caption عراق میں رواں برس پانچ ہزار سے زیادہ افراد فرقہ وارانہ تشدد میں ہلاک ہو چکے ہیں: اقوام متحدہ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں جمعرات کو ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم اکیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

حملہ آورں نے بغداد کے مصروف شاپنگ سینٹروں کو نشانہ بنایا۔

عراق میں رواں سال فرقہ وارانہ تشدد میں انتہائی اضافہ ہوا ہے اور اس کی شدت 2008 کے تشدد کے قریب پہنچ چکی ہے۔

پہلا دھماکہ شمالی بغداد کے علاقے صبا البور میں ہوا جس میں چودہ افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکے کے وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد صبا البور کے شاپنگ سینٹر میں موجود تھی۔

دوسرا دھماکہ بغداد کےدورا ضلع میں ہوا جس میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں 2013 میں فرقہ وارانہ تشدد میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ اگست میں فرقہ وارانہ تشدد میں 800 افراد ہلاک ہو ئے۔

فرقہ وارانہ تشدد میں اس وقت تیزی آئی جب حکومتی افواج نے بغداد کے قریب ہویجہ میں سنی مسلمانوں کے حکومت مخالف مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا۔

شام میں جاری تنازع سے بھی عراق متاثر ہوا ہے جہاں تشدد میں فرقہ واریت کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں عراقی سکیورٹی حکام نے بغداد کے مضافاتی علاقوں سے مبینہ طور پر القاعدہ کے سینکڑوں دہشت گردوں کوگرفتار کیا ہے۔ گرفتاریوں کی اس مہم کو شیعہ اکثریتی حکومت نے ’شہیدوں کا انتقام‘ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں