خودکش حملہ آور کی بیوہ کے وارنٹ جاری

Image caption سمانتھا 7 جولائی 2005 کو لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے خود کش حملہ آور جرمین لنڈزے کی بیوہ ہیں

بین الاقوامی پولیس ’انٹرپول‘ نے کینیا کی پولیس کی درخواست پر برطانوی خاتون شہری سمانتھا لیوتھویٹ کا وارنٹ جاری کر دیا ہے۔

29 سالہ سمانتھا سات جولائی 2005 کو لندن میں حملہ کرنے والے چار خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کی بیوہ ہیں۔

’سفید فام بیوہ‘ کے نام سے جانی جانے والی سمانتھا کا تعلق صومالی شدت پسند تنظیم ’الشباب‘ کے ساتھ بھی جوڑا جاتا رہا ہے۔

انٹرپول نے اس وارنٹ کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ویسٹ گیٹ شاپنگ مال پر حملے سے نہیں جوڑا، لیکن یہ وارنٹ اس حملے میں سمانتھا کا نام آنے کے بعد جاری ہوئے ہیں۔

اس حملے میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کی ذمے داری الشباب نے قبول کی ہے۔ چار دن کی کارروائی کے بعد ویسٹ گیٹ شاپنگ مال کو شدت پسندوں سے آزاد کرایا جا سکا تھا۔

انٹرپول کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سمانتھا کینیا میں دھماکہ خیز مواد رکھنے اور مجرمانہ سازش کرنے کے الزام میں مطلوب ہیں۔ ان پر مجرمانہ سازش کا الزام 2011 کے ایک واقعے سے متعلق ہے۔

انٹرپول کے ریڈ وارنٹ کے بعد رکن ممالک کو انہیں حوالگی کا عمل مکمل ہونے تک حراست میں رکھنا ہوتا ہے۔

سمانتھا اس سے پہلے صرف جنوبی افریقہ کا فرضی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں مطلوب تھیں۔

سمانتھا سات جولائی 2005 کو لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے خود کش حملہ آور جرمین لنڈسی کی بیوہ ہیں۔ اس حملے میں 52 افراد ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انٹرپول کا ریڈ وارنٹ ایک عالمی مطلوب پوسٹر جیسا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں کینیا نے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ سمانتھا صرف ایک فرضی پاسپورٹ رکھنے والی دھوکےباز نہیں ہیں بلکہ ایک بین الاقوامی خطرہ بھی ہیں۔

اسی بارے میں