نیروبی شاپنگ مال میں مزید لاشوں کی تلاش

کینیا
Image caption تحقیقات میں امریکہ ، برطانیہ، جرمنی کینڈا اور انٹر پول کے ماہرین کینیا کے ماہرین کی مدد کر رہے ہیں

کینیا میں ملکی اور غیرملکی فارینسک ماہرین کی ٹیمیں ویسٹ گیٹ شاپنگ مال کی تلاشی لے رہی ہیں انہیں نہیں معلوم کہ وہاں اسلامی شدت پسندوں کے چار روز محاصرے کے بعد مزید کتنی لاشیں برآمد ہو سکتی ہیں۔

ابھی تک 67 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

کینیا کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ہلاکتوں کی تعداد میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں ہوگا اور غالباً وہاں سے صرف شدت پسندوں کی لاشیں ہی برآمد ہونگی۔

تاہم کینیا میں امدادی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ابھی تک 61 افراد لاپتہ ہیں۔

دریں اثناء کینیا میں اس محاصرے میں شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے پیشِ نظر تین دن کا سوگ جاری ہے۔

آج کئی لوگوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں جن میں ٹی وی اور ریڈیو سٹار روہیلہ اداتیا بھی شامل ہیں جو حاملہ تھیں۔

کینیا کے دارالحکومت اور اس کے ارد گرد سکیورٹی سخت ہے اور کینیائی پرچم سرنگوں ہیں۔

لوگوں میں اس بات پر تشویش ہے کہ کیا کینیا کے حکام اس طرح کے واقعات سے نپٹنے کے لیے تیار ہیں ایسی خبریں ہیں کہ اس طرح کے خدشات کے پیشِ نظر اب ملک کی دہشت گردی سے متعلق حکمتِ عملی اور حادثات سے نمٹنے میں تعاون کی پالیسی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔

شاپنگ مال کی تحقیقات میں امریکہ ، برطانیہ، جرمنی کینڈا اور انٹر پول کے ماہرین کینیا کے ماہرین کی مدد کر رہے ہیں۔

بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ داخلہ جوزف اولے لینکو نے کہا’ ہم تحقیقات کے دوسرے مرحلے میں ہیں اور فارینسک ماہرین کو شہادتیں جمع کرنے میں کم از کم سات دن لگیں گے۔

انہوں نے پانچ شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ منہدم ہونے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے سے زیادہ لاشیں ملنے کا امکان نہیں ہے۔

مرنے والے شدت پسندوں کی شناخت کا کام جاری ہے۔ اس حملے کے سلسلے میں دس لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

صومالیہ کے شدت پسند گروپ الشباب کا دعوی ہے کہ اس نے صومالیہ میں کینیا کی فوجی کارروائی کے جواب میں یہ حملہ کیا ہے۔

سنیچر کو شدت پسندوں نے ویسٹ گیٹ شاپنگ سینٹر میں گھس کر اندھا دھن فائرنگ شروع کر دی تھی اور لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اسی بارے میں