بغداد:سلسلہ وار بم دھماکے، 47 افراد ہلاک

Image caption اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں سال عراق میں ابھی تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں سوموار کو سلسلہ وار کار بم دھماکوں میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 130 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کار بم دھماکے شہر کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں بازاروں اور کار پارکنگ میں ہوئے۔

بغداد: مسجد میں بم دھماکے سے 35 ہلاک

سوموار کے دھماکے بغداد میں صبح کے مصروف ترین اوقات میں ہوئے اور اطلاعات کے مطابق کل 13 بم دھماکوں میں سے 9 شیعہ آبادی والے علاقوں میں ہوئے جن کا ہدف محنت مزدوری کے لیے جمع ہونے والے افراد تھے۔

ایک بڑا دھماکہ شہر کے مشرقی علاقے صدر سٹی میں بھیڑ بھاڑ والے بازار میں ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے اور 75 زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ چھ افراد بغداد کے شمالی علاقے شوالہ میں بھی دھماکے میں چھ افراد مارے گئے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بغداد میں پیر کو ہونے والے دھماکوں سے متاثرہ شیعہ علاقوں میں نیو بغداد، حبیبیہ، صبا البور، کاظمیہ، شاب اور ار بھی شامل ہیں جبکہ سنّی اکثریتی علاقے جماعہ اور غزالیہ بھی دھماکوں کا نشانہ بنے۔

تاحال ان حملوں کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن حالیہ تشدد کا الزام عام طور پر سنی مسلم تنظیموں پر لگایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو جنوبی بغداد کے علاقے میں شیعوں کی ایک مسجد پر خود کش حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

عراق کی خود مختار ریاست کردستان کا نسبتاً پر امن اور مستحکم دارالحکومت اربل میں بھی اِسی دن بم دھماکے میں چھ سکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا تعلق شام میں متحارب جہادی جنگجوؤں اور کردوں کی جنگ سے ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں 2008 جیسا خون خرابہ واپس نہ آ جائے۔

اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق رواں سال عراق میں ابھی تک پانچ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں