’کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی ویڈیوز ڈھونگ ہیں‘

Image caption مدر ایگنس دمشق کے شمال میں واقع کیتھلک چرچ میں ہوتی ہیں

روس کے وزیر خارجہ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ماسکو کے پاس مزید شواہد آئے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ شام میں اکیس اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شامی فوج کی جانب سے نہیں بلکہ شامی باغیوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔

پچھلے ہفتے روس نے امریکی وزیر خارجہ کو اس بارے میں شواہد فراہم کیے تھے۔ ان شواہد میں شام میں گذشتہ بیس برسوں سے مقیم ایک راہبہ کی جانب سے کی گئی تفتیش بھی شامل ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گیلپن نے مدر ایگنس نامی راہبہ سے بات کی۔

مدر ایگنس دمشق کے شمال میں واقع کیتھلک چرچ سے وابستہ ہیں۔ وہ اصل میں لبنانی ہیں لیکن گذشتہ بیس برسوں سے شام میں رہائش پذیر ہیں۔

نامہ نگار نے ان کو فون کیا اور درخواست کی کہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انٹرویو کیا جائے جو انہوں نے قبول کی۔

مدر ایگنس کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں مرد، عورتیں اور بچوں کی ہلاکت کا ڈھونگ رچایا تھا۔

مدر ایگنس کا کہنا ہے کہ جن ویڈیوز کو دیکھ کر دنیا بھر میں شور مچ گیا ہے ان ویڈیوز کا انہوں نے بھی بغور جائزہ لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ یہ سارا ڈھونگ تھا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مختلف جگہوں پر بنی ہوئی ویڈیو میں ایک بچہ بار بار آ رہا ہے۔ ’اس بچے کی لاش کو مختلف جگہوں پر کیوں لے جایا گیا؟ میری جان یہ شواہد ہیں ۔۔۔ میں کمیشن نہیں ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ سب نقلی تھا۔ میرے باس شواہد ہیں کہ لاشوں کو جگہ جگہ گھمایا گیا ہے۔‘

مدر ایگنس نے جو رپورٹ لکھی ہے اس میں کئی دعوے کیے گئے ہیں۔

  • غوطہ، جو دمشق کے مشرق میں واقع ہے جہاں کیمیائی حملہ کیا گیا، پہلے ہی سے خالی تھا تو پھر اتنی زیادہ ہلاکتیں کیسے ہوئیں؟
  • ان ویڈیوز میں اتنے سارے بچے دکھائے گئے ہیں لیکن ان کے والدین کی تصاویر نہیں ہیں؟
  • ان ویڈیوز میں عورتوں کی تعداد بہت کم کیوں تھی اور بہت سے لوگوں کی شناخت کیوں نہیں ہوسکی؟
  • ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے شواہد بہت کم کیوں تھے؟

مدر ایگنس نے اپنے سب سے زیادہ حیران کن انکشاف میں کہا کہ اصل میں ہلاک ہونے والے افراد کو علوی علاقے سے شامی باغیوں نے اغوا کیا تھا اور پھر ہلاک کردیا۔

انہوں نے کہا ’کئی افراد نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ ویڈیوز میں دکھائے گئے بچے ان کے تھے۔‘

مدر ایگنس نے اپنی رپورٹ مکمل کر کے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر بھیجی تھی۔

مدر ایگنس کی جانب سے کیے گئے انکشاف کس حد تک درست ہیں؟

عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر پیٹر بوکارٹ کا کہنا ہے ’مدر ایگنس کی جانب سے کیے گئے انکشافات درست نہیں ہیں۔‘

’وہ ویڈیوز کی جانچ پڑتال کی ماہر نہیں ہیں ۔۔۔ ہمیں ان ویڈیوز میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے یہ بات ثابت ہو کہ یہ جعلی ویڈیوز ہیں۔‘

پیٹر بوکارٹ نے مدر ایگنس کے انکشافات کو ایک ایک کر کے مسترد کیا۔

  • ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کے مطابق غوطہ میں ہزاروں شہری محصور تھے۔
  • بمباری کے باعث بچے زیر زمین کمروں میں سوتے ہیں اور اسی لیے اتنے زیادہ بچوں کی ہلاکت ہوئی۔
  • ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو ایک کمرے سے دوسرے اور ایک کلینک سے دوسرے کلینک منتقل کیا گیا اور اس کے بعد تدفین کی گئی۔
  • ہلاک ہونے والے بچوں، عورتوں اور مردوں کو مختلف کمروں میں رکھا گیا تاکہ ان کو غسل دے کر دفن کیا جائے۔
  • ہیومن رائٹس واچ کے نمائندوں نے علوی علاقوں سے اغوا ہونے والے بچوں کے والدین سے بات کی اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں ان کے بچے شامل تھے۔

اسی بارے میں