ملالہ، سنوڈن سخاروف انعام کے لیے نامزد

Image caption ایڈورڈ سنوڈن نے روس میں پناہ لے رکھی ہے

امریکہ کے خفیہ راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھیں یورپ میں انسانی حقوق کے ایک بڑے انعام سخاروف کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو بھی اس انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

یورپی پارلیمان میں گرین گروپ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے ایڈورڈ سنوڈن کو امریکی جاسوسی نظام کے بارے میں راز افشا کرنے پر اس انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔

یورپ کی پارلیمان کی جانب سے اس سے قبل یہ انعام نیلسن مینڈیلا اورآنگ سان سو چی کو دیا جا چکا ہے۔

یورپی پارلیمان کے گروپ نے کہا کہ ’سنوڈن کی نامزدگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی طرف سے امریکہ کے جاسوسی کرنے کے اقدام کے بارے میں راز افشا کرنا انسانی حقوق اور یورپی شہریوں کی بڑی خدمت تھی۔‘

ایڈور سنوڈن جنھوں نے روس میں پناہ لے رکھی ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ ’میں یورپ کے سیاستدانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر جاسوسی کے اقدامات کو چیلنج کیے جانے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمارے زمانے میں افراد کی جاسوسی نہیں بلکہ پوری کی پوری آبادی کی جاسوسی انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہے۔

سخاروف انعام سابق سویت یونین کے سائنس دان اور منحرف رہنما آندرے سخاروف کی یاد میں ’سوچ کی آزادی‘ کے لیے ہر سال دیا جاتا ہے۔

اس سال کے انعام کا اعلان دس اکتوبر کو کیا جائے گا۔

اس انعام کے لیے تیسری نامزدگی بیلاروس سے تعلق رکھنے والے منحرف سیاستدانوں کے گروپ کی ہے۔سیاستدانوں کے اس گروپ کو صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے متنازع انتخابات میں دوبارہ صدر بننے کے خلاف احتجاج کرنے پر 2010 میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

اس گروپ میں متحرک کارکن الیس بیالیاسکی، ایڈورڈ لوباو اور سابق صدارتی امیدوار مائے کولا ستاکویچ شامل ہیں۔

الیس بیالیاسکی وہ پہلے شخص ہیں جنھیں یورپ کے انسانی حقوق کے انعام واکلوف ہیول سے بھی نوازا گیا۔ اس انعام کی رقم 61 ہزار یورو ہے۔

اسی بارے میں